Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد ویب ڈیسک ،بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے بدھ کے روز پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ’مائنس بی‘ سے بڑھا کر ’بی‘ کر دی، جس کی وجہ ادارہ جاتی استحکام میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے مؤثر نفاذ کو قرار دیا گیا ہے۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ’مائنس بی‘ سے بڑھا کر اسے ’بی‘ کیے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پیش رفت کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ حکومت کی معاشی پالیسیوں، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحاتی اقدامات اور معیشت کو مستحکم بنانے کی کوششوں پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے۔واضح رہے کہ ’ایس اینڈ پی‘ ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ہے جو حکومتوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیتی ہے۔ایس اینڈ پی کے مطابق پاکستان کی مالی صورتحال فی الحال مستحکم ہے۔ بیرونی مالی معاونت کی بدولت ملک اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی جاری رکھ سکے گا اور آئندہ ایک سال تک موجودہ تجارتی قرضوں کو نئی مدت کے لیے تجدید بھی کروا سکے گا۔ایس اینڈ پی کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششوں کے نتیجے میں محصولات کی وصولی میں بہتری آئی ہے اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے کا عمل تیز ہوا ہے، جس سے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق ’آئی ایم ایف کی حمایت سے نافذ کی جانے والی اصلاحات نے پاکستان میں معاشی استحکام کی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور مالیاتی و بیرونی شعبوں پر موجود دباؤ میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ایس اینڈ پی نے اسی رپورٹ میں یہ پیش گوئی کی ہے کہ ’مالی سال 2027 میں پاکستان کی معیشت تین اعشاریہ پانچ فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔ایجنسی کے مطابق ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے باوجود پاکستان میں مہنگائی پر اس کے اثرات محدود رہنے کی توقع ہے۔تاہم پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق ’اس پیش رفت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معاشی ترقی کو مزید تقویت ملے گی۔‘