پاکستان میں پانی کی چوری اور غیر منصفانہ تقسیم سینکڑوں دیہات میں انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ یا تالاب سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔

پاکستان [م ڈ}یہ کوئی ایک مخصوص گاؤں نہیں ہے، بلکہ پنجاب کے جنوبی اضلاع (جیسے راجن پور، رحیم یار خان) اور سندھ کے زیریں علاقوں (جیسے تھرپارکر کی سرحد سے متصل اضلاع، دادو، اور سجاول) کے کچے اور دور دراز دیہات کا ایک مشترکہ اور سنگین مسئلہ ہے۔پاکستان کا نہری نظام دنیا کے بڑے سسٹمز میں سے ایک ہے، لیکن نہر کے آغاز اور درمیان میں موجود بااثر زمیندار غیر قانونی پائپوں اور “موگوں” کو چوڑا کر کے زیادہ پانی نکال لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آخری سرے پر واقع دیہات تک پہنچتے پہنچتے نہریں بالکل سوکھ جاتی ہیں۔
ان علاقوں میں زیرِ زمین پانی اکثر انتہائی کڑوا، نمکین اور پینے کے قابل نہیں ہوتا۔ جب نہروں میں پانی نہیں آتا، تو مقامی آبادی کے پاس بارش کے پانی کو روکنے یا نہر کے آخری بہاؤ کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے بنائے گئے کچے تالابوں (جنہیں مقامی زبان میں جوہڑ، طوبہ یا ترآئی کہتے ہیں) کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔پانی کی شدید قلت کے باعث، دیہات کے لوگ کپڑے دھونے، برتن صاف کرنے، اور خود پینے کے لیے اسی ایک تالاب سے پانی لیتے ہیں جہاں ان کے مویشی (گائے، بھینسیں، بھیڑ بکریاں) بھی پانی پی رہے ہوتے ہیں۔اس آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے ان دیہات میں ہیپاٹائٹس، پیٹ کے امراض ، اور جلد کی بیماریاں انتہائی عام ہیں، اور بچوں کی اموات کی شرح بھی زیادہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *