Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کاشغر(ویب ڈیسک)پاکستان سے 2 ٹن آموں کی کھیپ رواں سال پہلی بار سنکیانگ پہنچ گئی، کسٹمز کلیئرنس کے بعد آم کاشغر اور کورلا کی مقامی منڈیوں میں فروخت کے لیے پہنچا دیے گئے، جس سے خطے میں درآمدی تازہ پھلوں کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق پاکستانی آم چین اور پاکستان کے درمیان قائم ایک لینڈ پورٹ کے ذریعے سنکیانگ پہنچے، جہاں کسٹمز حکام نے ان کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں کلیئر کردیا اور بعد ازاں یہ آم مقامی منڈیوں تک پہنچ گئے تازہ پھلوں کے معیار کو دورانِ نقل و حمل برقرار رکھنے کے لیے کسٹمز حکام نے خصوصی کلیئرنس طریقہ کار متعارف کرایا، جس میں کاروباری اداروں کے ساتھ پیشگی رابطہ کاری، درآمدی و اعلانیہ دستاویزات کی تیاری میں رہنمائی اور پاکستانی کسٹمز حکام سے نقل و حمل کی تازہ صورتحال کے حوالے سے رابطہ شامل تھا۔یہ کھیپ ایسے وقت میں چین پہنچی ہے جب پاکستان اپنی آموں کی برآمدات کے لیے بیرونِ ملک نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوششیں کررہا ہے۔ 12 مئی 2026 کو پاکستانی زرعی حکام اور صنعت سے وابستہ نمائندوں نے آموں کے برآمدی سیزن اور بیرونِ ملک فروخت کے فروغ کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں برآمدی ذرائع کو بہتر بنانے اور مزید عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بیجنگ میں پاک چین سلک روڈ مینگو فیسٹیول 2026 کا انعقاد بھی کیا گیا، جہاں چینی اور پاکستانی کاروباری اداروں نے آموں کی تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تبادلہ خیال کیا اور چین میں پاکستانی آموں اور آم سے بنی مصنوعات کے لیے مارکیٹ کے مواقع بڑھانے کے مقصد سے تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے۔