Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد (ویب ڈیسک )وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی ڈیٹا اور شواہد کی بنیاد پر مزید موثر انداز میں کی جائے گی،نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور حکومت کے وسیع تر ٹیکس اصلاحاتی پروگرام کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل مشاورت اور تعاون ناگزیر ہے۔۔وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقدہ چار روزہ قومی ٹیکس سیمینار سے خطاب کیا۔ومی ٹیکس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے، مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی ترجیحات اور نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پر روشنی ڈالیخطاب میں پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال، حکومت کے جاری ساختی اصلاحاتی ایجنڈے، مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی ترجیحات اور نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کے نفاذ پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔سیمینار میں صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن احسان الحق شیخ، صدر لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن رانا ثاقب منیر، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سرپرست اور چیئرمین پاکستان ٹیکس بار اکیڈمی عبدالقادر میمن، مہمانِ خصوصی ممبر اپیلیٹ ٹریبونل اِن لینڈ ریونیو ظہور احمد، معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر ندیم الحق سمیت ملک بھر سے سینئر ٹیکس ماہرین، وکلائ ، چارٹرڈ اکاو ¿نٹنٹس اور ٹیکس شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔مشیر نے کہا کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ مالی نظم و ضبط اور مشکل مگر ناگزیر ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی شعبے کی مضبوطی، بہتر قرضہ جاتی نظم و نسق اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی نے پاکستان کو معاشی استحکام سے پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے جس کا اظہار پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی خودمختار کریڈٹ ریٹنگز، آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب جائزوں، بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی، سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مثبت آرائ سے ہوتا ہے، جو پاکستان کی مضبوط ہوتی معاشی بنیادوں کی عکاسی کرتے ہیں۔مالی سال 2026-27کے بجٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک متوازن، ذمہ دارانہ اور ترقی دوست بجٹ ہے جس کا مقصد سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے، جبکہ مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے، کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کی مسابقت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، ٹیرف اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دیا گیا ہے، اور حکومت نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، نہ کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔انہوں نے حکومت کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے پر بھی روشنی ڈالی، جس میں ٹیکس انتظامیہ، عوامی قرضوں کا مو ¿ثر انتظام، نجکاری، سرکاری اداروں کی اصلاحات، پنشن اصلاحات، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، ڈیجیٹل پاکستان اقدامات، سرمایہ مارکیٹوں کی ترقی اور مالی سہولیات تک رسائی میں بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد اداروں کو مضبوط بنانا، گورننس کو بہتر کرنا، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا اور سرمایہ کاری کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے تحت روایتی افسر پر مبنی نظام کو ڈیٹا پر مبنی، ٹیکنالوجی سے آراستہ، فیس لیس، شفاف اور زیادہ جوابدہ نظام میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس ماڈل کے تحت آڈٹ، اسیسمنٹ اور فیلڈ آپریشنز کو الگ الگ خصوصی شعبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، جبکہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مرکزی ڈیٹا اینالیٹکس اور رسک پر مبنی کمپلائنس نظام کے ذریعے اختیارات کے غیر ضروری استعمال، براہِ راست رابطے اور صوابدیدی فیصلوں کو کم کیا جائے گا۔ اس سے قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کو زیادہ آسان، تیز اور قابلِ پیش گوئی خدمات میسر آئیں گی، جبکہ ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی ڈیٹا اور شواہد کی بنیاد پر مزید مو ¿ثر انداز میں کی جائے گی۔مشیر نے ٹیکس بار ایسوسی ایشنز اور ٹیکس پریکٹیشنرز کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور حکومت کے وسیع تر ٹیکس اصلاحاتی پروگرام کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل مشاورت اور تعاون ناگزیر ہے۔سیمینار کے دوران صوبائی سیلز ٹیکس، مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ٹیکس اقدامات، ٹیکس پالیسی، فیس لیس ٹیکس انتظامیہ، ڈیجیٹلائزیشن اور براہِ راست و بالواسطہ ٹیکسوں سے متعلق عملی امور پر تکنیکی اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ڈاکٹر ندیم الحق نے ٹیکس پالیسی اصلاحات پر کلیدی خطاب کیا، جبکہ ایف سی اے محمد ریحان صدیقی نے فیس لیس جیورسڈکشن اور ٹیکس انتظامیہ کی ڈیجیٹلائزیشن پر پریزنٹیشن دی۔ اس موقع پر ٹیکس ماہرین اور پریکٹیشنرز نے ٹیکس اصلاحات اور ابھرتے ہوئے ٹیکس امور پر مختلف تکنیکی مباحث میں بھی حصہ لیا۔منتظمین کی جانب سے صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن احسان الحق شیخ، صدر لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن رانا ثاقب منیر اور پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سرپرست و چیئرمین پاکستان ٹیکس بار اکیڈمی عبدالقادر میمن نے ٹیکس برادری کے ساتھ حکومت کے مسلسل رابطے کو سراہتے ہوئے ایک آسان، شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور کاروبار دوست ٹیکس نظام کی تشکیل کے لیے حکومت کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار ک