نیشنل پارٹی کی اصل طاقت اس کے کارکن ہیں۔ کارکن محض تنظیم کا حصہ نہیں بلکہ نیشنل پارٹی کی سیاسی میراث، فکری سرمایہ اور جدوجہد کا حقیقی تسلسل ہیں،نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

کوئٹہ(ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نیاز بلوچ کی رہائش گاہ پر پارٹی کے سینئر دوستوں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں تنظیمی امور، حالیہ تنظیمی انتخابات، کارکنوں کے تحفظات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پارٹی سربراہ کے ساتھ سینئر نائب صدر میر شاوس بزنجو بھی تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی اصل طاقت اس کے کارکن ہیں۔ کارکن محض تنظیم کا حصہ نہیں بلکہ نیشنل پارٹی کی سیاسی میراث، فکری سرمایہ اور جدوجہد کا حقیقی تسلسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی قربانیوں نظریاتی وابستگی اور مسلسل جدوجہد کی بدولت نیشنل پارٹی نے بلوچستان میں ایک سنجیدہ،جمہوری اور اصولی سیاسی قوت کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے لیے ہر کارکن قابلِ احترام ہے اور نیشنل پارٹی کسی بھی کارکن کو تنظیمی عمل سے دور رکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ تنظیمی سرگرمیوں میں کارکنوں کی شمولیت، مشاورت اور رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ پارٹی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکنوں کے مسائل سنے، ان کے خدشات کا ازالہ کرے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی کا بنیادی فکر جمہوری اصولوں قومی برابری عوامی حقِ حکمرانی، آئین و قانون کی بالادستی پر مبنی ہے۔ پارٹی کا آئین بھی انہی جمہوری روایات کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی آئین میں کی گئی ترامیم کا مقصد کسی فرد یا گروہ کو تقویت دینا نہیں بلکہ تنظیمی ڈھانچے کو زیادہ فعال، منظم، شفاف اور جمہوری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا تھا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے اندر اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، تنقید کو مثبت انداز میں لیا جائے اور مسائل کو گفت و شنید دلیل اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ تنقیدی شعور سیاسی مکالمے اور داخلی جمہوریت کی روایت کو فروغ دیا ہے اور مستقبل میں بھی اس روایت کو برقرار رکھا جائے گا۔ملاقات کے دوران سینئر کارکنوں اور عہدیداران نے حالیہ تنظیمی انتخابات کے حوالے سے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تمام شرکا کو تحمل کے ساتھ سنا اور یقین دہانی کرائی کہ پارٹی قیادت ان تحفظات کو سنجیدگی سے لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان امور کا حل باہمی مشاورت، آئینی دائرہ کار اور تنظیمی اصولوں کے مطابق نکالا جائے گا، جس کے لیے آئندہ دنوں میں مزید باقاعدہ نشستیں منعقد کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کسی قسم کے اختلاف کو ذاتی یا گروہی تنازع میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے سیاسی اور تنظیمی عمل کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ کارکنوں کے اعتماد ہی تنظیم کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ پارٹی کے تمام ساتھیوں کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر پارٹی کے وسیع تر مفاد نظریاتی تشخص اور قومی جدوجہد کو مقدم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی طاقت نہ کسی فرد میں ہے اور نہ ہی کسی عہدے میں، بلکہ اس کی اصل قوت کارکنوں کے اعتماد، نظریاتی وابستگی، جمہوری فکر اور اجتماعی جدوجہد میں ہے۔ پارٹی اپنے کارکنوں کے اعتماد کو ہر صورت مقدم رکھے گی اور ایک مضبوط، متحد اور متحرک تنظیم کے ذریعے بلوچستان کے قومی و عوامی حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھائے گی۔اجلاس سے ڈاکٹر رمضان ہزارہ انیل غوری حاجی نعیم بنگلزئی ریاض زہری حنیف کاکڑ چیرمین اسلم بلوچ آغا زہن شاہ نصر اللہ شاہوانی حاجی ادریس شاہوانی ثناء  اللہ کھیازئی کامریڈ رحمت اللہ پرکانی مالک بلوچ عارف کرد سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *