نائن الیون کے 25 برس بعد بھی افغانستان میں پروان چڑھنے والی دہشت گردی کے خوفناک سائے عالمی امن کیلئے بدستور سنگین خطرہ ہیں، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ نائن الیون کے وقت القاعدہ سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی اور طالبان حکومت کی جانب سے انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا عالمی سلامتی کیلئے ایک بنیادی خطرہ بن گیا تھا۔ نائن الیون کے واقعے کو 25 برس گزرنے کے باوجود افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے سوالات آج پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ اٹھ رہے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینٹر عبدالقادر نے کہا کہ افغان طالبان کی شدت پسند تنظیموں کے حوالے سے غیر مؤثر پالیسی کا سب سے زیادہ اور براہِ راست اثر پاکستان اور ملحقہ خطے پر پڑ رہا ہے۔ سرحد پار دہشت گردی، شدت پسند نیٹ ورکس کی سرگرمیاں اور افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات پاکستان کیلئے مسلسل اور سنگین چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان اور پورے خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب افغان طالبان اپنی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی منصوبہ بندی، تربیت، مالی معاونت یا سرحد پار کارروائیوں کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کا واضح، قابلِ تصدیق اور عملی عزم کریں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ افغان طالبان کو محض بیانات اور یقین دہانیوں سے آگے بڑھتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں، ان کی محفوظ پناہ گاہوں اور سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی کرنا ہوگی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں، اس لیے افغان سرزمین سے پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات پر خاموشی یا عدم عملی قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا کہ نائن الیون کی 25ویں برسی محض ماضی کے ایک المناک واقعے کو یاد کرنے کا موقع نہیں بلکہ عالمی برادری، بالخصوص افغانستان، کیلئے ایک اہم سبق بھی ہے۔ جب تک دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، مالیاتی اور سہولت کاری کے نیٹ ورکس اور سرحد پار کارروائیوں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام ایک ادھورا خواب ہی رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *