مکہ دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے، ترکیہ کا دوٹوک موقف

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک)ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ فنی اعتبار سے نیٹو کے معاہدے کی دفعہ 5 میں درج اجتماعی دفاع کے اصول سے مشابہ ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔نیٹو معاہدے کی دفعہ5 اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ یورپ یا شمالی امریکہ میں ایک یا ایک سے زیادہ رکن ممالک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔فیدان نے وضاحت کی کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے طے پانے والے معاہدے میں نیٹو کے طرز پر ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی شق شامل ہے، جبکہ معاہدے کی سرگرمیوں میں رابطہ کاری اور اس کے طریقہ کار پر عمل درآمد کے لیے ایک جنرل سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی اس دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ترکیہ کے وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ یہ معاہدہ ایران کو ہدف نہیں بناتا اور کوئی بھی ملک اس معاہدے کا ہدف نہیں ہوگا ،جب تک وہ رکن ممالک پر حملہ نہیں کرتا۔بحیرہ احمر کے حوالے سے فیدان نے کہا کہ سمندری آمدورفت کا تحفظ ترکیہ کے مفادات سے براہِ راست متعلق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *