Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ (این این آئی )جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جن نکات پر ایک دہائی قبل سنجیدہ قومی مکالمہ ممکن تھا، آج وہ بھی تشویشناک حد تک پیچیدہ ہو چکے ہیں، جبکہ جن امور پر آج بات کی جا سکتی ہے، اگر یہی روش برقرار رہی تو آئندہ ان پر بھی گفتگو کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بحران کی بنیادی وجہ مسئلے کے حل کے حوالے سے مسلسل غیر سنجیدگی، سیاسی سرد مہری اور وقتی مفادات پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ ہر دور میں صوبے کے دیرپا حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئیں مگر انہیں دانستہ نظرانداز کیا گیا، جبکہ اصل مسائل کے حل کے بجائے نت نئی تاویلات اور مصنوعی بیانیے تراشے جاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ نظام کا تجربہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے اور اس ناکام تجربے کی بھاری قیمت عوام اور ریاست دونوں نے ادا کی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات اور اس سے قبل ہونے والے انتخابی عمل کو جس انداز میں عوامی مینڈیٹ کا مذاق بنایا گیا، آج بلوچستان میں پیدا ہونے والی بے چینی، سیاسی عدم استحکام اور بداعتمادی اسی کے براہِ راست نتائج ہیں۔ اگر ریاست واقعی بلوچستان میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی خواہاں ہے تو اس کا واحد راستہ عوامی مینڈیٹ کی غیر مشروط بحالی، شفاف، آزاد اور غیر جانبدار دوبارہ انتخابات کا انعقاد اور عوام کے حقِ حکمرانی کا مکمل احترام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پالیسیوں اور غلط فیصلوں کا احتساب کرنے کے بجائے سیاسی قیادت کی کردار کشی کرنا اور اسے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانا نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ یہ ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ یہی عناصر مختلف ادوار میں منتخب سیاسی قیادت کو متنازع بنانے، پارلیمانی اداروں کو کمزور کرنے اور جمہوری نظام کو غیر مو¿ثر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ بلوچستان اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنے کا واحد راستہ اعتماد سازی ہے، اور اعتماد سازی کی پہلی شرط آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے ذریعے عوامی رائے کا احترام ہے۔ سیاسی انجینئرنگ، مصنوعی اکثریتوں اور سودے بازی کی سیاست نے صوبے کو مسلسل بحرانوں کی دلدل میں دھکیلا ہے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ آئین، جمہوریت اور عوامی اختیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور اس گمراہ کن بیانیے کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا جائے کہ پارلیمان صوبائی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب حقیقی عوامی نمائندگی کو سلب کیا جاتا ہے تو انہی قوتوں کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے جو پارلیمانی نظام اور جمہوری اداروں کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔