Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
مظفرآباد(کشمیر ڈیسک)چیئرپرسن کشمیر ویمن الرٹ فورم، مرکزی چیئرپرسن مسلم کانفرنس خواتین ونگ سابق امیدوار اسمبلی ویلی 6 اور سفیرِ امن ایوارڈ یافتہ محترمہ سمعیہ ساجد نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی ریاستی جبر، انسانی حقوق کی مبینہ سنگین خلاف ورزیوں اور بالخصوص حریت کانفرنس کی قیادت، رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف جاری گرفتاریوں، چھاپہ کارروائیوں، مقدمات اور پابندیوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔سمعیہ ساجد نے کہا کہ حریت کانفرنس کشمیری عوام کی آواز اور حقِ خودارادیت کے مطالبے کی نمائندگی کرنے والی اہم قوت ہے، مگر اسے دبانے کے لیے قائدین اور کارکنان کو گرفتار کرنے، گھروں پر چھاپے مارنے، مقدمات قائم کرنے اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد کرنے کا سلسلہ قابلِ تشویش ہے۔ طاقت، خوف اور پابندیوں کے ذریعے سیاسی اختلاف کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنا، ان کے خلاف قانونی کارروائیاں کرنا، سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور خاندانوں کو مسلسل دباؤ میں رکھنا کشمیری معاشرے میں خوف و بے یقینی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ حریت کانفرنس کے قائدین کو خاموش کرنے سے کشمیری عوام کے بنیادی سیاسی حقوق اور حقِ خودارادیت کا سوال ختم نہیں ہوگا۔سمعیہ ساجد نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو خاموشی کی وادی میں تبدیل کرنے کی کوششیں کشمیری عوام کی آواز کو ختم نہیں کر سکتیں۔ عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ? کار کی جانب سے بھی بھارت میں انسانی حقوق کے محافظوں، آزادیِ اظہار، پُرامن اجتماع اور حراست سے متعلق مختلف نوعیت کی تشویشات سامنے آتی رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری خواتین بالخصوص حریت قیادت اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور جبری کارروائیوں سے شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ اپنے پیاروں کی گرفتاری، گھروں پر چھاپوں، مسلسل خوف و ہراس اور غیر یقینی صورتحال نے ہزاروں خاندانوں کو ذہنی اور سماجی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ کشمیر ویمن الرٹ فورم کشمیری خواتین اور متاثرہ خاندانوں کی آواز عالمی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔سمعیہ ساجد نے اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت کانفرنس کی قیادت و کارکنان سمیت سیاسی قیدیوں کے حالات، گرفتاریوں، مقدمات اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا آزادانہ جائزہ لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کو طاقت، گرفتاریوں اور پابندیوں کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، سیاسی آزادی اور حقِ خودارادیت کے سوال کو دبانے کے بجائے ایک پائیدار اور منصفانہ حل کی طرف پیش رفت ضروری ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی ایسے حالات میں انسانی حقوق کے عالمی نظام کی ساکھ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔