Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
مغربی کنارہ (انٹرنیشنل ڈیسک)مقبوضہ مغربی کنارے میں جہاں اسرائیلی قبضے سے قبل مسیحی آبادی چھ فیصد تھی قبضے کے بعد مجبورآ ہجرات کرتے کرتے اب محض ایک فیصد رہ گئی ہے۔ ان کے لیے بھی یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسزکے بنا رکھے مشکل حالات کی وجہ سے اب یہاں رہنا دوبھر ہو گیا ہے۔ یہ مسیحی لگ بھگ2000 سال سے اسی مغربی کنارے کے مکین چلے آرہے ہیں۔ لیکن مسیحی راہب ریورنیڈ متری کا کہنا ہے اب شاید یہاں رہنا غیر ممکن بنا دیا گیا ہے۔اس راہب جو دارالکلمہ یونیورسٹی کے صدر بی رہ چکے ہیں۔ نے اپنا اندازہ ظاہر کرتے ہوئے کہا اگلے پچیس برس میں ہم مسیحیوں کا مکمل صفایا ہوتا نظر آرہا ہے اور کوئی ایک مسیحی بھی یہاں نہ ملے گا۔ یہ راہب حضرت عیسی کے پیدائش کے شہر بیت لحم کا رہائشی ہے۔یہ صورت حال اس لیے پیدا ہوگئی ہے کہ ہر آنے والا لمحہ مسیحی کے لے ایک غیر یقینی بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد چونکہ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں بھی اپنی جابرانہ کارروائیاں تیز کر دی تھیں اس لیے اب تک یہان سے سینکروں مسیحیوں نے اس عرصے میں ہجرت کی ہے۔پچھلے تین برسوں کے دوران تقریبآ ہر روز مغربی کنارہ اسرائیلی کارروائیوں کا مرز بنا ہوا ہے۔ یہودی آباد کار مسلمانون کے ساتھ ساتھ مسیحیوں کو بھی یہاں سے نکل جانے پر مجبور کر دینے والی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ جبکہ اسرائیلی فورسز کے چیک پوائنٹس کے علاوہ جگہ جگہ آپریشنز چل رہے ہوتے ہیں۔31 سالہ عیسیی قیسس ایک کارباری نوجوان ہے۔ یہاں سے نکلنے کا سوچنے پر مجبور ہے۔ وہ یہاں سے اپنا سٹارٹ اپ اور خاندان چھوڑ کر کہیں اور جا بسنا چاہتا ہے۔ اس کی ہجرت کے لیے اہم ترجیح امریکہ ہے۔عیسی قیسس نے کہا ‘ میں یہاں کے حالات سے تنگ آکر پوری سنجیدگی سے یہ سوچنے لگا ہوں کہاب یہ جگہ کسی کے رہنے کے قابل نہیں رہی ہے۔ میں اپنے کاروبار کے لیے ایک قدم آگے کی طرف بڑھانے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے تین قدم واپس لینا پڑتے ہیں۔خیال رہے مغربی کنارے میں ایک اندازے کے مطابق چالیس سے پنتالیس ہزار کے قریب مسیحی آبادی رہتی ہے۔ یہ مجموعی آبادی کا اب محض ایک فیصد سے کچھ رہ گئی ہے۔ 1967 میں جب اسرائیل نے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت یہاں کی مسیحی آبادی مجموعی آبادی کا چھ فیصد تھی، جو آہستہ آہستہ ہجرت کرکے نکل جانے پر مجبور ہوگئی۔محقق اور مذہبی شخصیات اور نوجوان مسیحی بھی قیسس کی طرح یہاں سے نکل جانے کا سوچ رہے ہیں۔ یہاں کی انسانی اور معاشی صورت حال دونوں سے وہ تنگ آچکے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے روزگار نہیں ناکے اور تلاشیاں ہیں۔قیسس کے مطابق ماضی میں مسیحی والدین اپنے بچوں کو کسی اور ملک میں جا بسنے سے روکتے تھے، مگر اب ایسا نہیں ہے۔ والدین بھی چاہتے ہیں کہ کہ کم از کم ان کے بچے اس خطرناک ماحول سے نکل جائیں۔ قیسس نے اس سلسلے میں اپنی والدہ کی مثال دی کہ اب انہیں میرے یہاں رہنے پر اصرار نہیں ہے۔ وہ بھی چاہتی ہیں کسی محفوظ جگہ جا کر رہنا شروع کردوں۔ہم یہاں انسانوں کی طرح نہیں پتھروں کی طرح رہ رہے ہیں۔فلسطینی وزیر خارجہ وارسن آغا بیکن شاہین نے ہجرت کرکے محفوط ہونے کی خواہش صرف مسیحیوں تک محدود نہیں۔ لیکن مسیحی نوجوانوں کے ہجرت کرنے کو آسان بنانے والے بعض دیگر محرکات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مسیحی نوجوانوں کو لیے وسیع مسیحی ممالک موجود ہیں جہاں وہ محفوظ زندگی گذار سکتے ہیں۔ روز گار یا کاروبار کا بھی سوچ سکتے ہیں۔ سماجی اعتبار سے بھی مسیحی نوجوانوں کے لیے بہت آسان ہے۔ ان کے رشتے دار اور بھائی بند بھی دوسرے ملکوں میں موجود ہیں جو انہیں خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔لیکن فلسطینی اتھارٹی کی آرمینی نسل کی مسیحی خاتون وزیر خارجہ نے کہا یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے کہ مغربی کنارے کے علاوہ یروشلم سے بی مسیحی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ میرے خیال میں مسیحیوں کو اپنی اس جنم بھومی پر رکھنے کے لیے کافی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ خود مسیحی دنیا کو بی اسرائیلی قبضے کے اثرات اور نتائج کا جائزہ لینا چاہیے۔مسیحی برادری مغربی کنارے سے ہجرت پر مجبور ہے۔ یہ ہجرت کافی عرصے سے جاری ہے۔ اسی لیے بہت سے مسیحی اب امریکہ میں جا کر رہ رہے ہیں۔ صرف چلی جیسے ملک میں چالیس ہزار سے زائد رہ رہے ہیں۔ایک مقامی مسیحی راہب نے کہا پچھلے تین برسوں کے دوران 200 سے زائد مسیحی خاندان مغربی کنارا چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ مسیحی چرچ کے بڑوں نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے نوجوان یہاں سے زیادہ جا رہے ہیں۔ مغربی کنارے یہ یہ مسیحی، یروشلم، بیت لحم ، رام اللہ وغیرہ کے قصبوں اور دیہات میں رہتے ہیں۔لیکن اہم بات ہے کہ ایک طرف مسلمانوں اور مسیحیوں کو فلسطینی مقبوضہ علاقوں سے نکالا جارہا ہے تو دوسری جانب یہودی آباد کاروں کو دنیا بھر سے لاکر یہاں بسانے کے لیے یہودی بستیاں بسائی جارہی ہیں۔ یہودی آبادی میں منظم اضافہ جاری ہے۔