مستونگ میں وزیر داخلہ بلوچستان کے قافلے پر دہشتگرد حملہ، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ (ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء  اللہ لانگو کے قافلے پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 اگست جیسے قومی دن کے موقع پر اہم حکومتی عہدیدار کے قافلے کو نشانہ بنانا امن دشمن عناصر کی بزدلانہ کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان میں خوف، عدم استحکام اور ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں، تاہم تشدد اور بزدلانہ حملوں کے ذریعے بلوچستان کے مستقبل کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ قوم، عوامی نمائندوں اور سیکیورٹی اداروں کو ایسے حملوں سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ حملے میں ملوث دہشتگردوں، منصوبہ سازوں، سہولتکاروں اور مالی معاونین تک پہنچ کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کے ساتھ قومی شاہراہوں اور حساس علاقوں کی روٹ سکیورٹی، نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور پیشگی خطرات کی نشاندہی کے نظام کا بھی جامع جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور مربوط کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید نگرانی، مؤثر انٹیلی جنس اور مقامی سطح پر مشتبہ سرگرمیوں کے خلاف فوری کارروائی کے ذریعے ایسے حملوں کی روک تھام ممکن ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات اور فوری مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ریاستی کارروائی قانون اور شفاف عدالتی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مستونگ حملہ بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے سنگین چیلنج ضرور ہے، لیکن ریاستی عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔ بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور استحکام کے حقدار ہیں۔ پاکستان کی غیور عوام خوف کے سامنے جھکنے والی نہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کامیابی کا راستہ مستقل مزاجی، مؤثر انٹیلی جنس، قانون کی بالادستی اور قومی اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *