Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
لاہور(ویب ڈیسک)لاہور کے گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال کے سرجنوں نے چینی تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے تیار کردہ مریض کے لیے مخصوص (کسٹمائزڈ) امپلانٹ کی مدد سے کولہے کے جوڑ میں موجود رسولی کو کامیابی سے نکال کر مریض کے کولہے کو ازسرِنو اصلی حالت میں جوڑ دیا۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق اس سرجری میں 26 سالہ مریض کا علاج کیا گیا، جو ہڈیوں کی ایک نایاب موروثی بیماری میں مبتلا تھا اور اس کے بائیں کولہے کے جوڑ کے ساکٹ میں کونڈروسارکوما (ہڈیوں کے کینسر کی ایک قسم) پیدا ہو گیا تھا۔ چینی کمپنی فارشائن میڈیکل نے یہ امپلانٹ تیار کیا،کمپنی نے چائنہ اکنامک نیٹ (CEN)کو تحریری جواب میں بتایا کہ رسولی اور اس کے ساتھ نکالی جانے والی ہڈی کی وجہ سے روایتی طریقے سے کولہے کی بحالی انتہائی پیچیدہ تھی۔پاکستانی سرجنوں نے مریض کی ٹانگ محفوظ رکھتے ہوئے کینسر سے متاثرہ حوض (پیلوِس) کا حصہ نکال دیا، جس کے بعد مریض کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ تھری ڈی پرنٹڈ جزوی پیلوک امپلانٹ نصب کیا گیا اور کولہے کی مکمل تبدیلی (ٹوٹل ہپ ریپلیسمنٹ) بھی انجام دی گئی۔ فارشائن میڈیکل کے مطابق آپریشن کی قیادت پروفیسر عامر عزیز نے کی۔سرجری سے قبل طبی ٹیم نے تھری ڈی پرنٹڈ ماڈل کی مدد سے رسولی اور مریض کی جسمانی ساخت کے مطابق تیار کردہ جراحی رہنما آلات استعمال کرتے ہوئے آپریشن کی مشق کی۔ اس دوران ہڈی کاٹنے کے مقامات، امپلانٹ کی درست تنصیب اور کولہے کی ازسرِ نو تعمیر کی مکمل منصوبہ بندی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق گھرکی ٹرسٹ میں سارکوما سروسز کے کلینیکل لیڈ اور آپریشن ٹیم کے رکن ڈاکٹر علی اعجاز احمد نے لنکڈ اِن پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ ہسپتال میں آرتھوپیڈک کینسر سرجری کے دوران مریض کے لیے مخصوص آلات اور تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا پہلا استعمال تھا،ان کے مطابق موک سرجری انتہائی اہم مرحلہ ثابت ہوئی، جس سے آپریشن تھیٹر میں داخل ہونے سے پہلے ہڈی کی کٹائی، رہنما آلات کی درست پوزیشن اور امپلانٹ کے موزوں ہونے کی تصدیق ممکن ہوئی۔فارشائن میڈیکل نے بتایا کہ قریبی دوطرفہ تعلقات، جغرافیائی قربت اور سازگار پالیسی ماحول کے باعث پاکستان کو بیرونِ ملک توسیع کے لیے اپنی پہلی مارکیٹ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ کمپنی نے مزید پاکستانی اسپتالوں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور دیگر طبی شعبوں میں بھی اپنی خدمات متعارف کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں کینسر کے خصوصی علاج کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔کینسر پر تحقیق کے بین الاقوامی ادارے (IARC) کے مطابق جولائی 2026 میں جاری کیے گئے گلوبوکان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار 300 نئے کینسر کیسز اور 1 لاکھ 19 ہزار 700اموات ریکارڈ کی گئیں۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق یہ کامیابی جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی حصہ ہے۔ نومبر 2025 میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)اسلام آباد میں چین کے تیار کردہ ٹومائی (Toumai)سرجیکل روبوٹ کی مدد سے دارالحکومت کی پہلی روبوٹک ایڈرینالیکٹومی (ایڈرینل غدود نکالنے کی سرجری) بھی کامیابی سے انجام دی گئی۔