عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے 1.68 کھرب روپے کی پیٹرولیم لیوی پر نظرثانی کر کے فوری کمی کی جائے: سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ (این این آئی ) چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، سینیٹر محمد عبدالقادر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد تقریباً 1.68 کھرب روپے (1,676.5 ارب روپے) کی پیٹرولیم لیوی پر نظرثانی کرتے ہوئے اس میں مناسب کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کے دباو ¿ میں کمی آئے، صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے اپنے خصوصی بیان میں کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ملکی معیشت کا بنیادی انجن ہیں۔ ان کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، بجلی کی پیداوار، تعمیرات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھتی ہے اور عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ جب تک عالمی اور مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پائیدار استحکام نہیں آ جاتا، حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں مناسب کمی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، کاروباری سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوگی، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی اور برآمدی شعبے کی بین الاقوامی مسابقت بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک، ادویات، تعمیراتی سامان اور روزمرہ استعمال کی بیشتر اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ توانائی کے شعبے کے لیے ایک جامع، متوازن اور طویل المدتی پالیسی تشکیل دی جائے، جس میں عالمی منڈی کے رجحانات، پیٹرولیم لیوی، ٹیکسوں اور قیمتوں کے تعین کے نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ غیر ضروری مالی بوجھ میں کمی سے مہنگائی پر قابو پانے، سرمایہ کاری بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ مضبوط معیشت کی بنیاد صرف زیادہ محصولات نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری، برآمدات اور عوام کی بہتر قوتِ خرید ہے۔ حکومت اگر بروقت ریلیف فراہم کرے تو اس کے مثبت اثرات قومی معیشت اور سرکاری محصولات دونوں پر مرتب ہوں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *