Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
بغداد(انٹرنیشنل ڈیسک)عراق میں العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے ہفتے کی شام بتایا کہ صوبہ بابل میں ایک ایسے مسلح گروہ کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کے ایرانی شخصیات سے روابط تھے اور وہ عراق سے باہر حملے کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔عراقی حکومت کے سرکاری ترجمان حیدر العبودی نے بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی فورسز اور عراقی انٹیلی جنس ادارے نے ایک مسلح نیٹ ورک میں کامیابی سے دراندازی کرتے ہوئے اسے توڑ دیا، جو مخصوص اہداف پر ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں کہاکہ انسدادِ دہشت گردی ادارے اور عراقی انٹیلی جنس نے گزشتہ روز جمعہ کی رات ایک مسلح نیٹ ورک میں دراندازی کی، جو مخصوص اہداف کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس کے پاس آلات، سامان اور ڈرون طیارے موجود تھے۔ مسلح افواج کی کارروائی کے دوران اس کے ارکان کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ اس وقت زیرِ تفتیش ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم اس وقت ایک ایسے سیل سے تفتیش کر رہے ہیں جس کے پاس ڈرون طیارے تھے، تاہم کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔العبودی کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت کے سربراہ مسلح دھڑوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں اور 30 ستمبر کے بعد عراق میں مسلح دھڑوں کی موجودگی کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں لانا ایک قومی عراقی معاملہ ہے اور اس کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہوگا۔ایک حساس اور تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں، جبکہ عراقی حکومت ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کی تیاری کر رہی ہے، بغداد اپنی سکیورٹی اور عسکری قیادت کے ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں کر رہا ہے۔ان تبدیلیوں میں وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع کے علاوہ مختلف ڈویژنوں اور آپریشنز کی قیادت بھی شامل ہے، جن میں بصرہ آپریشنز کمانڈ بھی شامل ہے۔یہ تبدیلیاں ایسے صوبے میں کی جا رہی ہیں جو غیر معمولی اسٹریٹجک اور سکیورٹی اہمیت رکھتا ہے۔