صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی مفاہمت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنا کر ہی صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو مذید بہتر بنایا جاسکتا ہے،لیاقت اقبال راجپوت

کوئٹہ(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان مدر ونگ کے رہنماء اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ  سیدال خان ناصر کے کمیونیکیشن افئیر کوارڈینیٹر لیاقت اقبال راجپوت  نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں یہ جملہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ زمینی حقائق، معاشی مجبوریوں اور جغرافیائی اہمیت پر مبنی ایک اٹل حقیقت ہے رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے (جو کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے) کو قدرتی وسائل کا گہوارہ کہا جاتا ہے اگرچہ پاکستان کا مستقبل روشن اور مستحکم دیکھنے کی خواہش ہر پاکستانی کی ہے، لیکن جب تک بلوچستان کو پسماندگی کے اندھیروں سے نکال کر قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا، ملک کی مجموعی ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔لیاقت اقبال راجپوت نے کہا کہ بلوچستان کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں جبکہ اس کی طویل سمندری پٹی بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی ہے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا مرکزِ نگاہ گوادر پورٹ اسی صوبے کا فخر ہے یہ بندرگاہ وسطی ایشیائی ممالک کو گرم پانیوں تک رسائی فراہم کرتی ہے اور پوری دنیا کے لیے تجارت کا ایک نیا دروازہ بن سکتی ہے جب تک بلوچستان خوشحال اور پرامن نہیں ہوگا یہ راہداری اپنی اصل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے جن کا صحیح استعمال پورے ملک کی معیشت کو بدل سکتا ہے صوبے میں سونا، تانبا، کوئلہ، گیس، کرومائٹ اور لوہے کے وسیع ذخائر موجود ہیں ریکوڈک اور سیندک کے منصوبے پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں دہائیوں سے بلوچستان کی سوئی گیس نے پورے پاکستان کے گھروں، کارخانوں اور پاور پلانٹس کو روشن رکھا ہے اس کے ساتھ ساتھ مچھلی اور سمندری وسائل کا ایک لا محدود خزانہ یہاں موجود ہے، جو برآمدات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کے وسائل کو شفاف طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو پاکستان کو توانائی کے بحران سے نجات مل سکتی ہے مزید کہ بلوچستان کا ماحول اور وسیع و عریض رقبہ پھلوں (سیب، انگور، چیری، انار) اور مال مویشی (لائیو سٹاک) کی افزائش کے لیے بہترین ہے  جدید زراعت اور کولڈ چین لاجسٹکس کے ذریعے اسے قومی اور بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑ کر معیشت کو زبردست فروغ دیا جا سکتا ہے۔لیاقت اقبال نے کہا کہ بلوچستان کے عوام میں طویل عرصے سے محرومی کا احساس پایا جاتا ہے، جس کی بنیادی وجوہات بنیادی سہولیات (تعلیم، صحت، صاف پانی اور روزگار) کا فقدان ہیں اس ضمن میں جب نوجوانوں کو روزگار، معیاری تعلیم اور ترقی کے مساوی مواقع ملیں گے، تو ریاست کے ساتھ ان کا رشتہ مزید مضبوط ہوگااور اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔اندرونی امن اور یکجہتی کے بغیر کوئی بھی ملک معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا۔صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی مفاہمت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنا کر ہی صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو مذید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *