سہ ملکی کرکٹ سیریز، انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سکیورٹی وفد کا محکمہ داخلہ پنجاب کا دورہلاہور میں 7ہزار 849اور راولپنڈی میں 6ہزار 460اہلکار تعینات ہوں گے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں سہ ملکی کرکٹ سیریز کی تیاریاں کے سلسلہ میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سکیورٹی وفد کی محکمہ داخلہ پنجاب آمد ہوئی، جہاں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی سربراہی میں سہ ملکی کرکٹ سیریز کی سکیورٹی بارے اہم اجلاس ہوا۔ وفد میں برطانوی کرکٹ بورڈ کیڈائریکٹر انٹرنیشنل آپریشنز روب ہل مین، ڈائریکٹر سکیورٹی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ریگ ڈکاسن، چیف ایگزیکٹو آفیسر انگلینڈ پلیئر کرکٹ ایسوسی ایشن ڈیرل مچل شامل تھے۔کمشنر لاہور نعمان یوسف، چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد سید، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران، ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سکیورٹی، سی ٹی ڈی و سپیشل برانچ افسران نے شرکت کی۔کمشنر راولپنڈی، آر پی او راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے وفد کو اکتوبر میں ہونے والی سہہ ملکی سیریز کے چار درجاتی سکیورٹی انتظامات بارے بریفنگ دی گئی۔ انگلینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں لاہور اور راولپنڈی میں کرکٹ میچز کیلئے پاکستان آئیں گی۔ سکیورٹی ٹیم کو ائیرپورٹ و اسٹیڈیم روٹس، ہوٹلز، پارکنگ، پولیس فورس کے انتظامات بارے بتایا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ لاہور اور راولپنڈی میں کرکٹ میچز کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں، میچز کیلئے پنجاب سیف سٹیز، قذافی اسٹیڈیم اور ڈی آئی جی آپریشنز آفس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم قائم ہوں گے۔ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان میں کرکٹ میچز کیلئے سکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے گئے، میچز کے تمام روٹس سی سی ٹی وی کیمروں سے کوور ہوں گے،لاہور میں میچز کے دوران سکیورٹی کے لئے 7,849جبکہ راولپنڈی میں 6,460اہلکار تعینات ہوں گے۔ برطانوی وفد نے کہا کہ برطانوی ٹیم پاکستان آ کر کھیلنے کیلئے بہت پرجوش ہے، پاکستانی شائقین کرکٹ کھیل سے محبت کرتے ہیں۔سکیورٹی وفد پی سی بی حکام کے ساتھ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا بھی دورہ کرے گی، لاہور میں انتظامات کے جائزہ کے بعد سکیورٹی ٹیم راولپنڈی کا دورہ کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *