ریڈ کارڈ پر طاقتور ٹرمپ کارڈ کی جیت

سپورٹس نیوزفیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران امریکی فارورڈ فولارین بالوگن پر عائد ایک میچ کی پابندی ختم کرنے کے فیصلے نے فٹبال کی دنیا میں ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس فیصلے پر فیفا (FIFA) اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور ناقدین اسے ’ریڈ کارڈ پر طاقتور ٹرمپ کارڈ کی جیت‘ قرار دے رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق، راؤنڈ آف 32 میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف میچ کے دوران فولارین بالوگن کو مخالف کھلاڑی کے ٹخنے پر پاؤں رکھنے پر ‘ریڈ کارڈ’ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا، جس کے باعث ان پر اگلے اہم میچ (بمقابلہ بیلجیم) کے لیے خودکار طور پر ایک میچ کی پابندی عائد ہو گئی تھی۔اس فیصلے کے فوراً بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کو براہِ راست فون کیا اور اس ریڈ کارڈ پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا۔

صدر ٹرمپ کی اس سیاسی مداخلت کے بعد فیفا نے غیر متوقع طور پر بالوگن پر عائد پابندی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا، جس سے وہ بیلجیم کے خلاف کھیلنے کے اہل ہو گئے۔فٹبال کی تاریخ میں عام طور پر ریڈ کارڈ کے بعد لگنے والی ایک میچ کی پابندی کے خلاف اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی۔ 1970 میں ورلڈ کپ میں یلو اور ریڈ کارڈ متعارف کرائے جانے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کھلاڑی کا ریڈ کارڈ پر لگنے والی پابندی کو محض ایک سیاسی فون کال کے بعد ختم یا معطل کیا گیا ہو۔ ناقدین اسے فیفا کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔بیلجیم کی فٹبال ایسوسی ایشن (RBFA) نے فیفا کے اس فیصلے پر شدید حیرت اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

بیلجیم کے کوچ روڈی گارسیا نے اس فیصلے کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا: ”مجھے نہیں معلوم تھا کہ فیفا کے دفاتر میں 5 جولائی کا دن یورپ کے ‘اپریل فول’ کی طرح منایا جاتا ہے۔بیلجیئم نے اسے فٹبال کی روح اور ‘فیئر پلے’ (Fair Play) کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قانونی آپشنز کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ریڈ کارڈز سیاسی فون کالز سے منسوخ نہیں ہوتے، بلکہ یہ قوانین، شواہد اور آزاد اداروں کے ذریعے طے پاتے ہیں۔ اگر کوئی امریکی صدر فیفا کے صدر پر اثر انداز ہوتا ہے اور ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچ سے قبل ایک کھلاڑی کو اچانک کلیئر کر دیا جاتا ہے، تو یہ سوال ناگزیر ہے کہ فیفا کس سمت جا رہا ہے؟ فٹبال کو کبھی بھی سیاسی طاقت کا کھیل نہیں بننا چاہیے۔

فیفا کا مؤقف اور صدر ٹرمپ کا ردعمل؟فیفا نے اپنے ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس کسی بھی تادیبی کارروائی کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کرنے کا اختیار ہے، تاہم انہوں نے اس کی کوئی تفصیلی وجہ نہیں بتائی۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر فیفا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ”فیفا نے بالکل درست فیصلہ کیا اور ایک بڑی ناانصافی کو بدل دیا۔پوری دنیا میں اس وقت یہ بحث عروج پر ہے کہ کھیل کے میدان میں قوانین سب کے لیے برابر ہونے چاہئیں، اور کسی بھی ملک کے سربراہ کو میچ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔فٹبال ورلڈ کپ میں ہونے والی اس غیر معمولی سیاسی اور کھیلوں کی ہلچل کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے آپ اس لائیو میڈیا رپورٹ کو دیکھ سکتے ہیں، جس میں بالوگن کے ریڈ کارڈ کی منسوخی اور صدر ٹرمپ کے کردار پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *