Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

برسلز(این این آئی)خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی)اور یورپی یونین کے مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز پر کسی بھی ملک کی خودمختاری یا کنٹرول کے دعوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی جہازرانی پر کسی بھی قسم کے اجازت نامے، راہداری فیس یا سروس چارجز عائد کرنا ناقابل قبول ہے، جبکہ ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر تمام حملے بند کرے۔بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی دوطرفہ معاہدے، مفاہمتی یادداشت یا انتظام کے ذریعے کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے کے حق کو محدود یا غیر قانونی طور پر منظم نہیں کیا جا سکتا۔اس میں زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا حق بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک کو حاصل ہے اور اسے کسی ایک ریاست کی اجازت یا کنٹرول سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔یہ مشترکہ موقف 13 جولائی 2026 کو برسلز میں منعقد ہونے والے علاقائی سلامتی و تعاون کے اعلی سطحی فورم کے دوران سامنے آیا، جس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کایا کالاس اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے جی سی سی وزارتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے کی۔بیان میں یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز چونکہ بین الاقوامی جہازرانی کے لیے استعمال ہونے والی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں سے گزرنے کی آزادی اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر سمیت بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہے۔تمام ممالک کے بحری جہاز اس حق سے فائدہ اٹھانے کے مجاز ہیں اور کوئی بھی ریاست اسے معطل، محدود یا کسی شرط سے مشروط نہیں کر سکتی۔مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر بحری جہازوں پر تمام حملے اور جہازرانی میں ہر قسم کی مداخلت بند کرے، آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھلا رکھا جائے اور وہاں کسی قسم کی راہداری فیس، سروس چارج یا دیگر شرائط نافذ نہ کی جائیں۔بیان میں ایران پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2817 پر مکمل عمل کرے۔