بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہلاکتوں میں اضافہ، لاکھوں افراد محصور

بنگلہ دیش ویب ڈسک،مون سون کی مسلسل اور موسلا دھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ (مٹی کے تودے گرنے) سے بنگلہ دیش میں درجنوں افراد ہلاک اور لاکھوں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔جنوب مشرقی شہر چٹوگرام اور اس کے آس پاس کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں خوراک کی سپلائی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔بنگلہ دیشی حکام نےمیڈیا کو بتایا کہ اب تک کم از کم 50 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی وزارت نے ہفتے کے روز بتایا کہ سات اضلاع — چٹوگرام، کاکس بازار، بندربان، رنگامتی، کھاگراچھڑی، مولوی بازار اور حبی گنج — میں سیلاب نے روزمرہ کی زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے، ہزاروں خاندانوں کو الگ تھلگ کر دیا ہے اور 267,918 گھرانوں کو محصور کر دیا ہے۔بجلی کی بندش، تباہ شدہ سڑکوں اور مواصلاتی رابطے ٹوٹ جانے کی وجہ سے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔سیلاب کا پانی گھروں میں داخل ہونے کی وجہ سے بہت سے رہائشی کئی دنوں سے کھانا پکانے سے قاصر ہیں، جبکہ دیگر افراد باورچی خانوں اور رہائشی جگہوں پر مٹی کی موٹی تہیں جم جانے کے بعد شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔چٹوگرام کے سیلاب سے متاثرہ علاقے کے ایک رہائشی نورالاسلام نے بتایا کہ خوراک کی صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “ہمارے پاس موجود خشک خوراک ختم ہو گئی ہے، اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہم راتیں اپنے بچوں کے ساتھ اندھیرے میں گزارتے ہیں۔ہزاروں خاندان خشک خوراک — جیسے چڑوا (پیسے ہوئے چاول)، مرمرے یا بسکٹ جنہیں پکانے کی ضرورت نہیں ہوتی — اور ہنگامی امداد پر گزارا کر رہے ہیں۔

تاہم، ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور تباہ شدہ پلوں کی وجہ سے امدادی کارکنوں کے لیے سب سے زیادہ متاثرہ برادریوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔حکام کی جانب سے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کے ساتھ ہی فوج اور بحریہ کے اہلکار کشتیوں کے ذریعے الگ تھلگ ہو جانے والی آبادیوں تک خوراک، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچا رہے ہیں۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریلیف کے وزیر اقبال حسین نے چٹوگرام میں متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا، “حکومت سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ امدادی سامان، پینے کا صاف پانی اور طبی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے، اور ہم ان لوگوں سے گزارش کرتے ہیں جن کے گھر زیرِ آب آ چکے ہیں کہ وہ قریبی پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں۔رواں ہفتے کے اوائل میں کاکس بازار میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بھی شدید بارشوں کے باعث مٹی کے تودے گرے، جس سے خواتین اور بچوں سمیت 16 پناہ گزین ہلاک ہو گئے۔

ان کیمپوں میں 10 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین رہتے ہیں، جہاں درختوں سے محروم ڈھلوان پہاڑیوں پر بنے عارضی مکانات مون سون کے موسم میں خاص طور پر زیادہ خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔بنگلہ دیش دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ قدرتی آفات آتی ہیں، جہاں موسمی مون سون کی بارشیں باقاعدگی سے سیلاب، دریاؤں کے کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بنتی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کی وجہ سے شدید بارشوں کا سلسلہ زیادہ تواتر کے ساتھ اور شدید تر ہوتا جا رہا ہے، جس سے ایسی آفات کے پیمانے اور سنگینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *