بلوچستان میں پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے نوکریوں کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ،سربراہ بلوچستان امن جرگہ لالہ یوسف خلجی

کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے نوکریوں کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ وزراء اور سیکرٹریز سرعام سرکاری نوکریاں فروخت کررہے ہیں جس سے نوجوانوں میں مایوسی پائی جاتی ہے اور وہ غلط راستوں کاانتخاب کرنے پر مجبور ہیں،وزراء اورسیکرٹریز نے اگر اپنے رویئے تبدیل نہ کئے تو وہ دن دور نہیں جب عوام حکمرانوں کو گریبانوں سے پکڑ کر روڈ پر گھسیٹیں گے اور انہیں بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو بلوچستان امن جرگے کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات کرنے والے نوجوانوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ اسوقت میدان جنگ بنا ہوا ہے عوام کی جان و مال غیر محفوظ ہوچکی ہے اور سڑکوں پر دن دیہاڑے سفر کرنا دشوار ہوگیا ہے لیکن وزیراعلیٰ،وزراء اور ارکان اسمبلی عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے اپنے تحفظ اور لوٹ مار میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرکاری نوکریاں سرعام لاکھوں روپے کے عوض فروخت کی جارہی ہیں اور پڑھے لکھے نوجوان دھکے کھانے پر مجبور ہیں جس سے ان میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگے کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ دہشت گردی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ معاشی ہے اگر نوجوانوں کو میرٹ پرروزگار فراہم کیا جائے تو دہشت گردی خود بخود ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے نوجوان نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے غلط راستوں کاانتخاب کر رہے ہیں جو کسی بھی طرح ملک اور صوبے کے مفاد میں نہیں ہے۔ لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ اینٹی کرپشن،نیب اوردیگرتحقیقاتی ادارے نوکریاں فروخت کرنے والے صوبائی وزراء،سیکرٹریز اورانکے چمچوں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائیں اور جو بھی نوکریاں فروخت کرنے میں ملوث ہیں انہیں سرعام سزائیں دی جائیں تاکہ دیگر افراد ان سے عبرت حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ اسوقت بلوچستان میں پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کی مخلوط حکومت ہے اوردونوں سیاسی جماعتوں کے کارکن اور ضلعی صدور اورعہدیدار اپنے وزراء پر نوکریاں فروخت کرنے کے الزامات لگارہے ہیں جن کی صاف اورشفاف تحقیقات ہونی چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *