بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا قتل: ’ہم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا کہ ہمارے بچوں کو قتل کردیا گیا؟

بلوچستان [ویب ڈسک]صوبہ بلوچستان کے ضلع واشک میں گذشتہ روز شدت پسندوں کی فائرنگ کے ایک واقعے میں جن پانچ مزدوروں کی ہلاکت ہوئی ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔20 سالہ محمد بلال کا تعلق رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے نواحی علاقہ فلڈ کالونی سے تھا اور وہ بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں مزدوری کرتے تھے۔بلال کے بھائی محمد اصغر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’کسے معلوم تھا کہ پیسے کمانے کے لیے بلوچستان جا کر مزدوری کرنے والا بلال سہرا سجانے سے پہلے منوں مٹی تلے جا سوئے گا۔تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم بلوچستان کے وزیر اعلی سرفراز بگٹی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ماشکیل میں ’نہتے اور بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔’یہ بلوچوں نے پنجابیوں کو نہیں، دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملہ پاکستان کی وحدت اور قومی یکجہتی پر حملہ ہے۔‘

رفراز بگٹی نے مزید کہا ہے کہ ’آزادی کا جھوٹا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ریاست ہر دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو انجام تک پہنچائے گی۔ پاکستان دہشت گردی کے سامنے نہ کبھی جھکا ہے اور نہ کبھی جھکے گا۔‘

دریں اثنا ڈپٹی کمشنر واشک مجید سرپرہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ دار افراد کی ’نشاندہی اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔‘

واشک پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ماشکیل میں دکانوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچوں مزدور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ فائرنگ کے فوراً بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز فوری طور پر علاقے میں پہنچ گئیں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے آبائی اضلاع سیالکوٹ، نارووال اور رحیم یار خان روانہ کی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *