بلوچستان میں ایل پی جی سپلائی پر حملے عوام اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایل پی جی ٹینکروں کو نشانہ بنانے اور نذر آتش کرنے کے واقعات صوبے کے عوام، تجارت اور معیشت پر براہِ راست منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ، نوشکی، دالبندین اور تفتان کے راستے آنے والی ایل پی جی سپلائی کو خصوصی سکیورٹی خطرات لاحق ہیں۔ جون میں نوشکی کے قریب کوئٹہ-تفتان ہائی وے پر چھ ایل پی جی باؤزرز کو نذر آتش کیا گیا، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز اور درآمد کنندگان کے مالی خطرات بڑھے بلکہ اس کا اضافی بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی سالانہ طلب تقریباً 20 لاکھ ٹن ہے، جس کا قریب 70 فیصد درآمد کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کے زمینی راستوں میں خلل قومی سپلائی چین کو بھی متاثر کرتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی پائپ لائن دستیاب نہیں اور لاکھوں گھرانے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایل پی جی سپلائی پر مسلسل حملے سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے لیے بھی نقصان دہ ہیں اور ان کے نتیجے میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان حملوں کے براہِ راست اثرات بلوچستان کے عام شہری برداشت کر رہے ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے حکومت پر زور دیا کہ اہم سپلائی روٹس کی سکیورٹی فوری طور پر مضبوط کی جائے، ایل پی جی ٹرانسپورٹ کے لیے مؤثر حفاظتی نظام وضع کیا جائے اور حملہ آوروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ عوامی ریلیف، کاروباری سرگرمیوں اور قومی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *