بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کا سمندر میں اخراج بڑا ماحولیاتی خطرہ ہے، جنید انوار چوہدری 

 اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور گورنر سندھ نہال ہاشمی نے سمندری آلودگی کے تدارک، ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بلیو اکانومی کے فروغ کیلئے مربوط اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاقِ رائے وزارتِ بحری امور میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا، جس میں پاکستان کے ساحلی علاقوں میں بڑھتی ہوئی سمندری آلودگی اور اس کے سمندری حیات، ماہی گیری، ساحلی آبادیوں اور اہم انفراسٹرکچر پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سمندری آلودگی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ معاشی سرگرمیوں، روزگار اور ساحلی آبادی کی صحت کیلئے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ میرین پولوشن کنٹرول بورڈ آلودگی کے تدارک کیلئے مختلف اقدامات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں سندھ حکومت اور متعلقہ صوبائی اداروں کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز بھی ہے تاکہ مربوط حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔وفاقی وزیر نے بغیر ٹریٹمنٹ کے سیوریج کو سمندر میں چھوڑے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے سمندری ماحول کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر صاف شدہ گندے پانی کا مسلسل اخراج مینگرووز، مرجانی چٹانوں (کورل ریفس) اور مچھلیوں کی قدرتی افزائش گاہوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آلودگی کے باعث سمندر میں آکسیجن کی مقدار کم ہو رہی ہے، جس سے سمندری حیاتیاتی تنوع متاثر اور مچھلیاں محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال سے ماہی گیری کا شعبہ اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے۔محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ کیلئے سمندری وسائل اور ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ ناگزیر ہے۔گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا کہ سمندری آلودگی خصوصاً کراچی سمیت ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کی صحت کیلئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے درمیان مو ¿ثر تعاون، ویسٹ واٹر مینجمنٹ کی بہتری اور بغیر ٹریٹمنٹ کے سیوریج کے سمندر میں اخراج کی روک تھام پر زور دیا۔ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سمندری آلودگی کے مو ¿ثر تدارک کیلئے ماحولیاتی، بلدیاتی اور بحری اداروں سمیت تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ دونوں رہنماو ¿ں نے ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ، عوامی صحت کے تحفظ اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانے کیلئے طویل المدتی اور قابلِ عمل اقدامات مشترکہ طور پر اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *