Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
تربت (ویب ڈیسک) سابق سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے کہا ہے کہ بارڈر پورے ضلع کیچ کے عوام کا مسئلہ ہے، اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، آل پارٹیز کیچ کا بارڈر کے نام پر تقسیم ہونا انتہائی افسوسناک اور بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش نے کیچ کے عوام کو نانِ شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے، شہری خوف اور ڈر کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں اسمبلی کے فلور پر بھی اس اہم مسئلے کو مؤثر انداز میں اٹھانے سے گریزاں ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے کہا کہ آج کے دھرنے میں شہریوں کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بارڈر کی بندش کا مسئلہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت یا گروہ کا نہیں بلکہ پورے عوام کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام مختلف خدشات اور خوف کا سامنا کر رہے ہیں، مگر یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ لوگ کس چیز سے خوفزدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اختلافات ختم کرکے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں اور بارڈر کی بحالی اور امن و امان کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرکے عوامی مسائل کو دبایا جاسکتا ہے تو یہ درست طرزِ عمل نہیں، کیونکہ بارڈر کی بندش براہِ راست ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور معاشی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔سابق سینیٹر نے کہا کہ گوادر، پنجگور، تفتان اور چمن کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھلے ہیں، لیکن گزشتہ تقریباً دو سال سے ضلع کیچ کا کراسنگ پوائنٹ بند ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیچ کے عوام کا آخر کیا قصور ہے کہ ان کے لیے بارڈر بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عبدوی یا جالگی کراسنگ پوائنٹ کو فوری طور پر کھولنے کا اعلان کیا جائے۔ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے خبردار کیا کہ طویل عرصے تک بارڈر بند رہنے کے باعث شہریوں کے معاشی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور بعض لوگ منفی سرگرمیوں اور غیر قانونی راستوں کی طرف جانے پر مجبور ہورہے ہیں، جبکہ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے نیک شگون نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے بارڈر کھولنے کے معاملے پر جلد سنجیدہ فیصلہ نہ کیا تو سخت لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ بلیدہ اور زامران میں تحریک شروع کی جائے گی اور عبدوی یا جالگی کراسنگ پوائنٹ کھولنے کے اعلان تک دھرنا جاری رکھا جائے گا، خواہ اس کے لیے مرتے دم تک دھرنا کیوں نہ دینا پڑے۔سابق سینیٹر نے مزید کہا کہ اس کے بعد مکران بچاؤ تحریک کا اعلان کیا جائے گا، جس میں تربت، گوادر اور پنجگور کے عوام کو متحد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکران کے تینوں اضلاع کے عوام مل کر امن و امان کی بحالی، بارڈر کی بحالی اور عوام کے معاشی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گے تاکہ مکران میں بدامنی کا خاتمہ ہو اور مسخ شدہ لاشیں گرنے کا سلسلہ بند ہو۔ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے کہا کہ وہ ہر وقت عوام کے درمیان موجود ہیں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، عوام کے حقوق کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے ساؤتھ بلوچستان کے نئے تعینات ہونے والے آئی جی کے حوالے سے کہا کہ ان کی تعیناتی مکران کے عوام کے لیے ایک آزمائش ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ مکران کے عوام کے مسائل کو سمجھتے ہوئے بارڈر کھلوانے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث عوام نانِ شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں، معاشی مشکلات شدت اختیار کرگئی ہیں اور لوگ انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کی مشکلات کا فوری نوٹس لے، بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھولے اور کیچ کے عوام کو روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرے۔