امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

نیوز ڈسک آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں مختلف اہداف پر شدید حملے کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں جنگ بندی کا عارضی معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔امریکہ نے ایران کو تیل کی فروخت کے لیے دیا گیا عارضی لائسنس منسوخ کر کے اس پر دوبارہ سخت معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔تاہم حالیہ حملوں نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔

عام حالات میں دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس اہم بحری گزر گاہ سے گزرتا ہے۔ان واقعات کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 76 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل بھی بڑھ کر 72 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے سب سے اہم ترین راستہ ہے، اس لیے یہاں ذرا سی بھی کشیدگی سپلائی معطل ہونے کے خوف سے قیمتوں کو فوری طور پر اوپر لے جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *