آرامکو اور معادن کا تانبے اور توانائی کی تبدیلی کے معدنیات کی تلاش کے لیے اشتراک اس پروجیکٹ میں معادن کا حصہ اکیاون فیصد ہوگا

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک )سعودی عرب کی پٹرولیم کمپنی آرامکو اور اور معدنیات کی تلاش کےلیے کام کرنےوالی معادن نے مملکت میں معدنیات کی تلاش اور سخت چٹانوں کی کان کنی کے لیے ایک مشترکہ پروجیکٹ قائم کرنے کی غرض سے ایک شیئر ہولڈرز کے معاہدے پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں خاص طور پر تانبے اور توانائی کی تبدیلی سے وابستہ دیگر معدنیات پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔اس پروجیکٹ کے منصوبوں کا اعلان سب سے پہلے جنوری سنہ 2025 میں کیا گیا تھا۔سعودی آرامکو توانائی اور کیمیا کے شعبے میں دنیا کی نمایاں اور مربوط کمپنیوں میں سے ایک ہے جبکہ معادن مشرق وسطی کی سب سے بڑی کثیر الجہت کان کنی کی کمپنی ہے اور دنیا بھر میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی کان کنی کی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔اس پروجیکٹ میں معادن کا حصہ اکیاون فیصد ہوگا جبکہ ارامکو کا حصہ انچاس فیصد ہوگا ۔ یہ پروجیکٹ عرب شیلڈ کے علاقے کے اندر چوتھے زون یا ٹرانزیشنل زون کی تلاش پر توجہ مرکوز کرے گا جو تقریبا ایک لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے جو کہ مملکت کے کل رقبے کا تقریبا دس فیصد بنتا ہے۔اس موقع پر سعودی ارامکو کے ٹرانسفارمنشل منرلز کے نائب صدر صالح محمد الصالح نے کہا کہ یہ پروجیکٹ ان ارضیاتی اور جیو فزیکل ڈیٹا سے فائدہ اٹھائے گا جو آرامکو نے نوے سال سے زائد عرصے کے دوران جمع کیے ہیں۔ اس کے ساتھ معادن کے تجربات مصنوعی ذہانت اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کو بروئے کار لاتے ہوئے کم لاگت میں معدنیات کی تلاش کے عمل کو تیز کرے گا۔دوسری جانب معادن کے ایکسپلوریشن کے معاون ایگزیکٹو ڈیرل کلارک نے کہا کہ تلاش اور ترقی کے میدان میں کمپنی کے تجربے اور عرب شیلڈ کے علاقے کے بارے میں ارامکو کے علم کو یکجا کرنے سے تلاش کے کاموں کو تیز کرنے اور معدنیات کے حصول کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی جو توانائی کے شعبے کی تبدیلی میں معاون ثابت ہوں گے۔تانبے کو اس پروجیکٹ کا ایک اہم محور بنایا جائے گا کیونکہ یہ برقی گاڑیوں توانائی کے نیٹ ورکس اور سٹوریج میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور اس وقت اس کی مارکیٹ کی مالیت تقریبا دو سو پچاس ارب ڈالر ہے جبکہ سنہ 2035 تک اس کے چار سو ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ یہ پروجیکٹ زنک سیسہ اور نایاب زمینی عناصر کی بھی تلاش کرے گا۔مصنوعی ذہانت جدید الگورتھمز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ پر انحصار کرتے ہوئے یہ پروجیکٹ ان علاقوں کی نشاندہی کرنے کا ہدف رکھتا ہے جہاں تانبے اور قیمتی معدنیات کی موجودگی کے امکانات سب سے زیادہ ہوں تاکہ مملکت میں کان کنی کے شعبے کی نمو کو سپورٹ کیا جا سکے اور معدنیات کی عالمی ویلیو چین میں اس کے کردار کو مزید مستحکم بنایا جا سکے،اس پروجیکٹ کا قیام اور شراکت داروں کے معاہدوں کی تکمیل ضروری داخلی اور ریگولیٹری منظوریوں سے مشروط ہے جن میں مسابقتی قوانین سے متعلق منظوریز بھی شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *