ضلع موسیٰ خیل کے عوام کے ساتھ ماضی میں بھی بارہا ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جنہوں نے نہ صرف ان کے سیاسی، انتظامی اور بنیادی حقوق کو متاثر کیا بلکہ انہیں مسلسل احساسِ محرومی اور پسماندگی کی طرف دھکیلا،جمعیت علماء اسلام بلوچستان

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے ضلع موسیٰ خیل کی ضلعی و جغرافیائی حدود میں عوامی رائے، مقامی ضروریات، تاریخی حقائق اور زمینی صورتحال کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے من پسند انداز میں ردوبدل اور تقسیم در تقسیم کے عمل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع موسیٰ خیل کے عوام کے ساتھ ماضی میں بھی بارہا ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جنہوں نے نہ صرف ان کے سیاسی، انتظامی اور بنیادی حقوق کو متاثر کیا بلکہ انہیں مسلسل احساسِ محرومی اور پسماندگی کی طرف دھکیلا؛ کبھی عوام کے منتخب نمائندے کو نااہل قرار دے کر عوام کے مینڈیٹ کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی سیاسی بساط لپیٹنے کے لیے ضلع کے واحد صوبائی اسمبلی کے حلقے کو ہی ختم کر دیا جاتا ہے، اور اب ان تمام اقدامات کے باوجود ایک مرتبہ پھر ضلع موسیٰ خیل کی جغرافیائی و انتظامی حدود کو من پسند طریقے سے تبدیل کرکے عوام پر ایک نیا انتظامی بندوبست مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں؛ جمعیت علماء اسلام بلوچستان واضح کرتی ہے کہ کسی ضلع کی حدود کا تعین محض دفتری فائلوں، بند کمروں کے فیصلوں یا انتظامی صوابدید کی بنیاد پر نہیں بلکہ وہاں بسنے والے عوام کی تاریخی وابستگی، جغرافیائی حقیقت، معاشرتی رشتوں، انتظامی ضرورت اور اجتماعی مرضی و منشا کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہیے، کیونکہ عوامی رضامندی کے بغیر کیے گئے فیصلے نہ جمہوری روح سے مطابقت رکھتے ہیں اور نہ ہی انتظامی انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہیں؛ افسوس کا مقام ہے کہ ضلع موسیٰ خیل اس وقت پسماندگی، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی شدید قلت، کمزور انفراسٹرکچر اور معاشی مشکلات کے باعث سنگین بحران سے دوچار ہے، مگر ضلع کے حقیقی مسائل حل کرنے، عوام کو روزگار فراہم کرنے، تعلیم و صحت کی سہولیات بہتر بنانے، سڑکوں، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانے کے بجائے بار بار ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو عوامی مسائل میں کمی کے بجائے مزید پیچیدگی، بے چینی اور احساسِ محرومی کو جنم دے رہے ہیں؛ بالخصوص رڑاشم اور اندر پوڑ جیسے علاقے جو تاریخی، جغرافیائی، سماجی اور انتظامی اعتبار سے ضلع موسیٰ خیل کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں، انہیں ایک غیر فطری اور غیر منصفانہ فیصلے کے ذریعے دوسرے ضلع میں شامل کرنے کی کوشش نہ صرف زمینی حقائق سے انحراف ہے بلکہ مقامی آبادی کے اجتماعی مفادات اور دیرینہ وابستگیوں کو بھی نظرانداز کرنے کے مترادف ہے؛ جمعیت علماء اسلام بلوچستان سمجھتی ہے کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پسماندہ اضلاع کو ترقی دینے کے بجائے ان کی سیاسی و انتظامی حیثیت کو کمزور کرنے اور ان کے وسائل، نمائندگی اور اجتماعی شناخت کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی بھی صورت صوبے کے مفاد میں نہیں؛ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ بلوچستان کے امن و امان، روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کرے، نہ کہ ایسے متنازع اور عوامی خواہشات کے منافی اقدامات کرے جن سے پہلے سے موجود محرومیوں میں مزید اضافہ ہو؛ جمعیت علماء اسلام بلوچستان ضلع موسیٰ خیل کے عوام، جماعتی قیادت اور مقامی نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اس معاملے پر جماعت کا موقف واضح، دوٹوک اور اصولی ہے کہ عوام کی مرضی و منشا کے برخلاف ضلع کی حدود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی؛ حکومت فوری طور پر مجوزہ انتظامی ردوبدل پر نظرثانی کرے، تمام متعلقہ علاقوں کے عوام، سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، قبائلی و سماجی عمائدین اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے اور کسی بھی فیصلے سے قبل شفاف، بامعنی اور باقاعدہ مشاورت کا عمل یقینی بنائے؛ بصورت دیگر جمعیت علماء اسلام بلوچستان عوام کے آئینی، جمہوری اور جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر پْرامن، جمہوری اور قانونی فورم پر بھرپور آواز بلند کرے گی اور اگر عوامی مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا گیا تو جماعت ضلع موسیٰ خیل کے عوام کے ساتھ مشاورت سے آئندہ کے احتجاجی اور
سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی؛ جمعیت علماء اسلام بلوچستان واضح کرنا چاہتی ہے کہ موسیٰ خیل کے عوام کو مزید انتظامی تجربات، سیاسی محرومی اور من پسند فیصلوں کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا، عوام کے مینڈیٹ، تاریخی شناخت، جغرافیائی وحدت اور اجتماعی مفادات کا احترام حکومت کی ذمہ داری ہے اور ان بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *