برفانی تودے کی زد میں آنے والے نرمل پرجا سمیت پانچ کوہ پیماؤں کی لاشیں سکردو منتقل

گلگت [ویب ڈیسک]پاکستان میں واقع دُنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی ’براڈ پیک‘ پر برفانی تودے کی زد میں آنے والے نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت پانچ افراد کی لاشیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سکردو منتقل کر دی گئی ہیں۔30 جولائی کو نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیما براڈ پیک سر کرنے کی کوشش کے دوران برفانی تودے کی زد میں آئے تھے۔الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ریٹائرڈ) عرفان ارشد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مجموعی طور پر براڈ پیک سے اب تک 10 میں سے سات لاشیں واپس لائی گئی ہیں جبکہ نرمل پرجا کی لاش پہاڑ پر تقریباً 5700 میٹر کی بلندی پر تھی۔ اس سے قبل دو لاشیں ابتدا آپریشن کے ابتدا میں بیس کیمپ پر لائی گئی تھیں۔عرفان ارشد نے مزید بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران ملنے والی ایک ٹانگ کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ان کا کہنا تھا کہ نرمل پرچا سمیت پانچ لاشیں بیس کیمپ پہنچائی گئیں تھیں جنھیں جمعرات کو دو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے سکردو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔43 سالہ کوہ پیما کی موت کا اعلان سنیچر کے روز ان کی کمپنی ’ایلیٹ ایکسپیڈیشنز‘ نے کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق وہ برفانی تودے کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے 10 افراد میں شامل تھے۔دریں اثنا الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق برآمد ہونے والی لاشوں میں نیپال کے نرمل پرجا، چین کے وانگ ژونگ، نیپال کے نیما شیرپا، گیالو شیرپا اور کلی پیمبا شیرپا المعروف ’کیلو‘ شامل ہیں۔الپائن کلب کے مطابق یہ لاشیں سکردو کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کی گئی ہیں اور ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد انھیں اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔
الپائن کلب کے مطابق ریسکیو ٹیم نے ایک مزید لاش کی موجودگی کی بھی تصدیق کی ہے جو انتہائی بلندی پر موجود ہے۔ ’موجودہ خطرناک حالات اور دشوار گزار علاقے کے باعث اس لاش کو فی الحال برآمد کرنے کی کوشش کیے جانے کا امکان نہیں۔الپائن کلب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سہیل سخی اور میلوری گیس اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ تاحال نوانگ تھِنڈو شیرپا کی لاش برآمد نہیں کی جا سکی۔عرفان ارشد کے مطابق براڈ پیک پر اب تلاش کا آپریشن ختم کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ اپنی تاریخ کا مشکل ترین آپریشن تھا جس میں ریسیکو کرنے والوں کی جرات و بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔تاحال پاکستانی حکام نے اس مہم میں شامل پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم اتوار کو سہیل سخی کے اہلخانہ کی جانب سے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ’انتہائی دکھ کے ساتھ ہم اعلان کرتے ہیں کہ براڈ پیک واقعے کے متاثرین میں سے ایک ہمارا سب سے پیارا بھائی سہیل کو تلاش نہیں کیا جا سکا۔پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ سہیل کے خاندان کے لیے ناقابل یقین حد تک مشکل وقت ہے اور انھوں نے ’بوجھل دل کے ساتھ آخری رسومات ادا کرنے کا دردناک فیصلہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *