Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اب ’جنگ بھی اور مذاکرات بھی دونوں کی ہی پالیسی نہیں چلے گی۔‘
ایرانی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ آئندہ دو سے تین روز تک ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو جنگ مزید ’جارحانہ‘ اور ’تباہ کُن‘ مرحملے میں داخل ہو جائے گی۔
سنہ 1980 سے سنہ 1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ رہنے والے محسن رضائی نے ایرانی ٹیوی کو دیے جانے والے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’میں پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بھی اسی طرح ختم کر دیں گے جیسے انھوں نے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کیا تھا۔‘
انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کا ابتدا سے ہی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ صرف ایران پر اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا تھا۔‘
محسن رضائی کے مطابق، اگرچہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور قطر کے امیر کی موجودگی میں تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی تھی، تاہم امریکہ نے کبھی اس طریقۂ کار سے رجوع نہیں کیا، کیونکہ ’اسے معلوم تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی پر اس کی مذمت کی جائے گی، اسی لیے اس نے ’جنگ بھی اور مذاکرات‘ کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔