نااہل حکمرانوں نے بلوچستان کو مقتل گاہ اور تجربہ گاہ بنا دیا ہے، یہاں قانون کی حکمرانی خواب بن کر رہ گئی ہے فارم 47 کے حکمرانوں کی تمام تر توجہ کرپشن اور کمیشن پر مرکوز ہے یہاں کے عوام کو بنیادی حقوق تک میسر نہیں،بگٹی قبائل کے سربراہ نواب محمد میر عالی بگٹی

کوئٹہ(ویب ڈیسک)بگٹی قبائل کے سربراہ نواب محمد میر عالی بگٹی نے کہا ہے کہ نااہل حکمرانوں نے بلوچستان کو مقتل گاہ اور تجربہ گاہ بنا دیا ہے یہاں قانون کی حکمرانی خواب بن کر رہ گئی ہے۔ ایسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ یہاں بسنے والا کوئی بھی قوم، فرقہ اور علاقہ اب محفوظ نہیں رہا، حالیہ دنوں میں زیارت اور ہنہ اوڑک میں جو افسوسناک واقعات رونما ہوئے ہیں جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو نااہل، سلیکٹڈ و کرپٹ و نالائق نام نہاد حکمرانوں نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 78 سالوں سے صرف تجربات کیے جا رہے ہیں کبھی تباہ کن ایٹمی دھماکوں کا تجربہ، کبھی الیکشن کے نام پر سلیکشن کروا کر نالائق لوگوں کو عوام پر مسلط کرنے کا تجربہ، اور کبھی حق و حقوق اور ساحل و وسائل پر یہاں کے عوام کا دسترس اور حق حکمرانی مانگنے والوں کو دیوار سے لگانے، انہیں غدار اور دہشتگرد قرار دے کر راستے سے ہٹانے کا تجربہ کیا جاتا رہا ہے تاریخ گواہ ہے کہ یہ تمام تجربے ناکام ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام تر حربے صرف اور صرف بلوچستان کے وسائل کو بزور طاقت لوٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے حکمرانوں کی تمام تر توجہ کرپشن اور کمیشن پر مرکوز ہے یہاں کے عوام کو بنیادی حقوق تک میسر نہیں۔ نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں ہمارے وسائل سے دوسرے صوبے ترقی کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان کا بچہ بچہ بھوک اور افلاس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ ان حکمرانوں نے بلوچستان کو صرف لوٹ کھسوٹ اور مال بنانے کا ذریعہ بنا رکھا ہےانہوں نے کہا کہ آج آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی ہے انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے خواتین و بزرگ اور بچے تک محفوظ نہیں ہر روز نوجوانوں کو اغوا کر کے غائب کر دیا جاتا ہے اور ہر روز بلوچستان میں خون بہایا جا رہا ہے آج بلوچستان خون میں ڈوبا ہوا ہے۔نواب بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام سے ان کے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی الیکشن کے نام پر عوام کی مرضی و منشاءکے برخلاف ان پر نااہل اور نالائق لوگ مسلط کر دیے گئے ہیں تو ان سے صرف تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا رہا ہے اس وقت بلوچستان میں حکومت کی بھاگ دوڑ ایک ایسے نااہل شخص کے حوالے کیا گیا جس کا کوئی سیاسی بیک گراو ¿نڈ نہیں انہوں نے کہا کہ روڈ سے اٹھا کر کسی بھوکے ننگے اور مفلس شخص کو بلوچستان جیسے حساس صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر بٹھانا ہم اس منصب کی توہین اور بلوچستان کے عوام کی تذلیل کے مترادف سمجھتے ہیں نواب بگٹی نے کہا کہ سلیکشن کے ذریعے ایسے لوگوں کو پروموٹ کرنے کا مقصد صرف ایک ہی ہو سکتا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جائے ان کو اور ان کے لانے والوں کو بلوچستان کی عوام سے کوئی سروکار نہیں ان کو ہاں میں ہاں ملانے والے لوگوں کے ذریعے صرف مال و دولت بنانے کی ضرورت ہے ۔

اسی لیے آج پورے بلوچستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے نااہل حکمران اپنے آقاو ¿ں کو کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے کیونکہ یہ جنگی منافع خور ہیں جتنا زیادہ جنگ ہوگا اتنا ہی زیادہ ان سب کا فائدہ ہے نواب بگٹی نے کہا کہ طاقتور قوتوں نے ان چند نام نہاد مفاد پرست لوگوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کے لئے بلوچستان کے عوام و حقیقی قیادت اور اصل حقداروں کے ساتھ نا صرف زیادتی کی بلکہ ملک کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے انہوں نے کہا کہ نام نہاد ٹولے کا دو اڈھائی سالہ دور حکمرانی سب کے سامنے ہے آیا بلوچستان نے کیا کھویا اور کیا پایا سب کچھ عیاں ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام ان سے بے حد نفرت کرتے ہیں ان نااہل حکمرانوں نے بلوچستان کو ٹھپ کر کے رکھ دیا انہوں نے کہا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے نوابوں اور سرداروں کو اس سنگین صورتحال میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ اب وہ کس طرح کوئی رول ادا کرسکتے ہیں کیونکہ عرصہ دراز سے تو ان سے مصنوعی لوگوں کو ترجیح دیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے اصل سیاسی و قبائلی قیادت کے ساتھ بھی ناانصافیوں و حقوق تلفیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے انہیں اپنے علاقوں میں جانے پر پابندیاں عائد ہیں عوام کو ان سے دور رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ اب مزید اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں سب کچھ کنٹرولڈ ہے آئین معطل ہے قانون کی حکمرانی نا پید ہے عدلیہ کو انصاف فراہم کرنے کا اختیار نہیں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو حق و سچ بولنے اور لکھنے کی اجازت نہیں اور یہاں تک کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والے اداروں پر بھی پابندیاں عائد ہیں نواب بگٹی نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور انکے ساتھیوں کو اپنی عوام کیلئے آواز بلند کرنے پر عرصہ دراز سے پابند سلاسل رکھا گیا ہے اور اب انہیں ایک من گھڑت مقدمہ میں عمر قید کی سزا دینا انصاف کا قتل ہے معصوم اور نہتے لوگوں کو اس طرح قید کرکے انکے آواز کو دبانا کی کوشش کرنا حکمرانوں کے لئے باعث ندامت ہے نواب بگٹی نے کہا کہ ریاست اور ریاستی ادارے بلوچستان کی عوام سے جانوروں جیسا سلوک کر رہے ہیں ہم پوچھتے ہیں کہ کیا بلوچستان کی عوام بھیڑ بکریاں ہیں کہ آئے روز روڈوں پر ان کی لاشیں پھینک دی جاتی ہیں؟ جب چاہے ان کے گھروں پر حملہ آور ہوکر چادر اور چار دیواری کی تقدس کو پامال کر کے نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر سالوں تک غائب کر کے ان کے خاندانوں کو اجتماعی اذیت میں ڈال دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ یہاں آئین قانون کی حکمرانی مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *