Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

انگلینڈ ویب ڈسک ،مسلسل خراب نتائج، بشمول گزشتہ موسم گرما میں آسٹریلیا کے خلاف ایشیز سیریز میں شکست کے بعد، برینڈن میکولم کو انگلینڈ کے ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ میکولم نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے “انتہائی مایوس ہیں، تاہم وہ انگلینڈ کی وائٹ بال (محدود اوورز) ٹیموں کے کوچ رہیں گے۔انگلینڈ اب اپنے اگلے ٹیسٹ کوچ کی تلاش شروع کرے گا۔ اس عہدے کے لیے آسٹریلیا کے جسٹن لینگر اور رکی پونٹنگ کے نام سامنے آ رہے ہیں، جبکہ انگلینڈ کے سابق کوچ اینڈریو فلاور کا نام بھی زیرِ غور ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے اتوار کی رات اعلان کیا کہ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے میکولم فوری طور پر ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے الگ ہو جائیں گے، اگرچہ وہ انگلینڈ کی مینز وائٹ بال ٹیموں کی قیادت جاری رکھیں گے۔
میکولم نے کہا کہ وہ اس بات پر “افسردہ” ہیں کہ کوچ کے طور پر ان کا چار سالہ سفر ختم ہو گیا ہے، لیکن وہ ای سی بی کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
کپتان بین اسٹوکس کی اچانک ریٹائرمنٹ کے محض دو ہفتے بعد سامنے آنے والی میکولم کی برطرفی متنازع “بیز بال تجربے کا آخری باب بند کرتی دکھائی دیتی ہے، جس میں انگلینڈ نے روایتی ٹیسٹ میچ کے طریقہ کار کو چھوڑ کر انتہائی جارحانہ، اور کئی لوگوں کے نزدیک لاپرواہ حکمتِ عملی اپنائی تھی۔
میکولم کی قیادت میں انگلینڈ نے 27 فتوحات، 20 شکستیں اور دو ڈرا ریکارڈ کیے، جن میں سے 7 شکستیں انگلینڈ کو اپنے آخری 9 ٹیسٹ میچوں میں ہوئیں۔ یہی وہ وقت تھا جب انگلینڈ میں “بیز بال” پر تنقید عروج پر پہنچ گئی، خاص طور پر گزشتہ موسم گرما میں آسٹریلیا میں 4-1 کی عبرتناک شکست کے بعد۔
ای سی بی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں میکولم نے کہا کہ انہیں “ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کرنے کا تجربہ بہت پسند آیا” اور وہ “اس بات پر بے حد فخر محسوس کرتے ہیں جو ہم نے مل کر حاصل کیا”۔
نیوزی لینڈ کے سابق وکٹ کیپر بلے باز نے کہا، “اس سفر میں کچھ ناقابل یقین کامیابیاں بھی تھیں اور کچھ مشکل دن بھی آئے، لیکن یہ سب اس طرح کے چیلنج کو قبول کرنے کا حصہ ہے۔ یہ میرے لیے ایک اعزاز کی بات تھی اور میں شکر گزار ہوں۔ میں کھلاڑیوں، اسٹاف اور ان مداحوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیا۔”
انہوں نے مزید کہا، “میں ٹیسٹ ٹیم کے لیے صرف اور صرف کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ اس ڈریسنگ روم میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور وہ شاندار لڑکوں کا ایک گروپ ہے۔ میں ہمیشہ مسکراہٹ کے ساتھ ان لڑکوں کی حمایت کرتا رہوں گا اور امید کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح دلیرانہ کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ لوگوں کا سر فخر سے بلند کرتے رہیں گے۔”
ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رچرڈ گولڈ نے اتوار کو برطانوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، “بدقسمتی سے نتائج اس طرح نہیں رہے جس طرح ہم چاہتے تھے۔ یہ ہمیشہ سے نتائج پر مبنی کام رہا ہے۔ برینڈن نے اس بات کو سمجھا ہے اور اسے قبول کیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “بدقسمتی سے، ایشیز کی مایوسی اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف اس کے بعد ہونے والی شکست کے نتیجے میں ہمیں یہ تبدیلی کرنی پڑی۔ ہمارے پاس 2027 میں ایشیز شروع ہونے تک 10 ٹیسٹ میچز باقی ہیں، لہٰذا اگرچہ ہمارے پاس نئے کوچ کے ساتھ تیاری کے لیے کافی وقت موجود ہے، لیکن ہم دستیاب وقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔”
انگلینڈ مینز کرکٹ کے مینجنگ ڈائریکٹر روب کی نے کہا کہ انگلینڈ کی حالیہ تاریخ کے کچھ یادگار ترین لمحات میکولم کے دورِ حکومت میں آئے۔
روب کی نے کہا، “ٹیم کی ذہنیت کو بدلتے ہوئے دیکھنا ایک حقیقی اعزاز کی بات تھی، جسے کھلاڑیوں نے بے حد پسند کیا، اور انہیں ایک نئی نسل کا ٹیلنٹ تیار کرتے ہوئے دیکھنا شاندار رہا جو آنے والے برسوں تک انگلینڈ کی مینز ٹیموں کا مرکز رہیں گے۔ وہ ٹیسٹ ٹیم کو ایک اچھے مقام پر چھوڑ کر جا رہے ہیں جہاں سے وہ بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔”
یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ میکولم کی انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی ٹیم حال ہی میں دنیا کی نمبر ون رینکنگ والی ٹیم بنی ہے، ای سی بی نے کہا کہ نئے ٹیسٹ کوچ کی تلاش اب شروع کر دی جائے گی۔
ماضی میں آسٹریلیا کے سابق کپتانوں جسٹن لینگر اور رکی پونٹنگ دونوں کو انگلینڈ کے ممکنہ کوچز کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، جبکہ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے اینڈریو فلاور کے دوسرے دورِ کوچنگ کو بھی ایک مقبول آپشن تصور کیا جائے گا۔