Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

ویب ڈسک خلیجِ فارس میں صورتحال اتوار (12 جولائی 2026ء) کو اس وقت انتہائی سنگین ہو گئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹ گیا اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی و بحری ٹکراؤ شروع ہوا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو “تاہم حکمِ ثانی” اور “امریکی مداخلت کے خاتمے تک” تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے ایک مالبردار جہاز پر حملہ کر کے اسے ناکارہ بنایا۔ایرانی حملے کے فوراً بعد امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون نے ایران کے خلاف جارحانہ فضائی کارروائی کرتے ہوئے بندر عباس اور قشم جزیرے سمیت ایران کے 6 شہروں میں اس کے فوجی اور ریڈار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے۔ اس دوران قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
قطر اور متحدہ عرب امارات کے دفاعی نظاموں نے اپنے فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔ اس بندش اور حملوں کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔