سعودی ولی عہد کے فون پر امریکی فوج کی حوثیوں پر حملے کی تیاری مکمل تھی،ٹرمپ نے روکدیا

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثیوں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی آخری مرحلے میں روک دی جبکہ حملے کے لیے اہداف منتخب اور جنگی طیاروں پر بم لادنے کی تیاری مکمل ہوچکی تھی۔امریکی حکام کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثیوں کے بڑھتے حملوں کے معاملے پر جمعرات کو ٹرمپ سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد امریکی صدر نے پینٹاگون کو ممکنہ کارروائی کی تیاری کا حکم دیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی فوج نے حوثیوں پر حملے کے لیے اہداف کی فہرست تیار کرلی تھی اور جنگی طیاروں کو مسلح کیا جارہا تھا تاہم اچانک صدر ٹرمپ نے اپنا فیصلہ تبدیل کردیا اور فضائی حملوں کا منصوبہ روک دیا۔امریکی حکام کے مطابق امریکا پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ میں وسیع فوجی وسائل استعمال کررہا ہے اور حوثیوں کے خلاف نیا محاذ کھولنے سے امریکی افواج پر مزید دباﺅ پڑسکتا ہے۔ایک اور اہم عنصر یہ ہے کہ حوثیوں نے عمان کی ثالثی سے ہونے والے سابقہ سمجھوتے کے تحت امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔امریکی حملہ شروع ہونے کی صورت میں حوثیوں کی جانب سے امریکی بحری افواج کو نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں پہلے ہی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہیں۔امریکا نے فی الحال سعودی عرب کی حمایت جاری رکھنے کے ساتھ حوثیوں کے خلاف براہ راست کارروائی سے گریز کیا ہے۔ یاد رہے کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کے بعد سعودی ولی عہد نے امریکا سے تعاون طلب کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *