وکلا کی سیاست میں بڑا دھماکہ! ایاز خان مندوخیل ایڈوکیٹ کو ہائیکورٹ سے شدید اور بڑا جھٹکا

کوئتہ(ویب ڈیسک) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران ملاخیل، جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پیر 21 ستمبر کو لورالائی کے شائستہ خان ایڈوکیٹ کی آئینی درخواست پر لورالائی و ژوب ڈویژن کے گروپ 2 سے متنازعہ منتخب ممبر بلوچستان بار کونسل ایاز خان مندوخیل ایڈوکیٹ کے خلاف رٹ آف کو وارنٹو کے تحت باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے انکی کامیابی کے نوٹیفکشن مورخہ 17.11.25 کو اس کی حد تک معطل کردیا ہے درخواست گزار کے وکیل امان اللہ کنرانی نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ جو شخص اس سیٹ پر منتخب ہوا ہے اس نے خود الیکشن سے قبل ریٹرننگ آفیسر کو درخواست دی ہے کہ ان کے حلقے میں کوئٹہ سے تقریباًایک درجن وکلاء کو الیکشن سے چند روز قبل کوئٹہ سے لورا لائی اورژوب منتقل کیا ہے جو رول 175-K ترمیم شدہ نوٹیفکیشن ازاں پاکستان بار کونسل مجریہ 8.9.25 کی خلاف ورزی ہے مگر دونوں مقامات کے سیشن جج پریذائیڈنگ صاحبان نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے برعکس متنازعہ ووٹوں کو شمار کرلیا جن کی تعداد 3 درجن کے قریب ہے جبکہ کامیاب امیدوار صرف 10 ووٹوں کی برتری سے جیتا ہے اگر یہ ووٹ غیر قانونی طور پر شمار نہ ہوتے نتائج اس کے برعکس ہوتے یوں جو شخص اپنے حلقے کے اکثریت ووٹوں کا اعتماد حاصل نہ کرسکے وہ نمائندگی کا دعوی نہیں کرسکتا لہذا مزکورہ حلقے میں الیکشن و کامیابی کینوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخاب کے احکامات صادر کئے جائیں اس سلسلے میں انھوں نے PLD 1989 کوئٹہ 25 کا حوالہ دیا جس میں محمد انور خان درانی کی جانب سے میر ظفراللہ جمالی کے وزیراعلی کے انتخاب کو چیلنج کیا گیا تھا دوسرے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے PLD 2007 SC 52 میں ایسے ہی ایک ووٹر کی درخواست پر حافظ حمد اللہ کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا تھا عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 5 اکتوبر کو مقرر کی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *