Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے بورڈ آف انویسٹمنٹ میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری روابط اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ جمیل احمد قریشی، ایڈیشنل سیکرٹری ذوالفقار علی، ڈائریکٹر جنرل عبدالسمیع، ڈائریکٹر جنرل محمود طفیل اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے نٹالی بیکر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان امریکہ تعلقات کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ ان کی بنیادی ذمہ داری سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا اور ایسا کاروباری ماحول تشکیل دینا ہے جہاں سرمایہ کار آسانی اور اعتماد کے ساتھ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ دو اہم ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔وفاقی وزیر نے نٹالی بیکر کو اپنے آئندہ دورہ نیویارک سے بھی آگاہ کیا، جہاں وہ اگلے ہفتے ورلڈ اکنامک فورم کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ امپیکٹ میٹنگز 2026 (SDIM26) میں شرکت کریں گے، جو 21 سے 24 ستمبر 2026 تک نیویارک میں منعقد ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عالمی فورم میں شرکت کے دوران عالمی کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتوں، پاکستان کی سرمایہ کاری کی استعداد اجاگر کرنے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔قیصر احمد شیخ نے پاکستان امریکہ تعلقات کے استحکام کے لیے نٹالی بیکر کے سفارتی کردار اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی کارکردگی اور کامیابیوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے بھی خراجِ تحسین کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نٹالی بیکر کے کردار اور ذمہ داریوں میں مزید وسعت پیدا ہو تاکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور تعاون کے فروغ میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکیں۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے پاکستان امریکہ تعلقات کے فروغ میں نٹالی بیکر کی خدمات کے اعتراف میں ان کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ منعقد کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی اہم بین الاقوامی سفارتی روابط کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی پس منظر کو مزید مضبوط اقتصادی اور کاروباری روابط میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام، مکالمے اور تعمیری تعاون کے ذریعے علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی بصیرت، دانش مندی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے کاروباری و سرمایہ کاری ماحول میں بہتری اور قواعد و ضوابط میں اصلاحات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری ماحول میں بہتری سے پاکستان میں امریکی کمپنیوں کے لیے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ 2025 میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان اشیا اور خدمات کی دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 11.5 ارب امریکی ڈالر رہا، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود نمایاں اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے سرمایہ کاری کے لیے معدنیات اور اہم معدنی وسائل، توانائی، ریفائنریوں کی جدید کاری، تیل ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے، زراعت اور زرعی ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات، صحت، مالیاتی خدمات، صارفین سے متعلق کاروبار اور فرنچائزز سمیت مختلف شعبوں میں موجود مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے اور ایسے طویل مدتی شراکت داری کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو صنعتی ترقی، روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں، جن میں جدید زرعی ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، ذخیرہ کاری، کولڈ چین، آبپاشی، زرعی مشینری اور ویلیو ایڈڈ برآمدات شامل ہیں۔ اسی طرح معدنیات، توانائی، آئی ٹی، صحت اور دیگر شعبوں میں بین الاقوامی مہارت، سرمایہ اور جدید ٹیکنالوجی پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔قیصر احمد شیخ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی سرمایہ کاری میں ہر ممکن سہولت فراہم کر رہا ہے۔وفاقی وزیر نے امریکی ناظم الامور کو کاروباری ماحول میں بہتری، غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے خاتمے اور سرمایہ کاروں کے لیے طریقہ کار آسان بنانے کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 550 سے زائد اصلاحات پر کام جاری ہے تاکہ سرکاری امور اور خدمات تک کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کی رسائی کو مزید آسان بنایا جا سکے۔ایڈیشنل سیکریٹری ذوالفقار علی نے نٹالی بیکر کو بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر ایک ون ونڈو سہولت کے طور پر کام کر رہا ہے، جہاں کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس، منظوریوں اور دیگر کاروباری خدمات کے حصول کے لیے مختلف سرکاری اداروں سے مربوط سہولت ایک ہی مقام پر فراہم کی جاتی ہے۔ اسلام آباد بزنس فسیلیٹیشن سینٹر نے اپنے پہلے سال کے دوران 6.6 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری اور 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سہولت فراہم کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے تاخیر کم کرنا، طریقہ کار کو آسان بنانا اور سرکاری اداروں کے ساتھ ایک مؤثر، شفاف اور سہل نظام فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں سہولت اور ضابطہ جاتی اصلاحات کاروبار کرنے میں آسانی کے حکومتی وڑن کا اہم حصہ ہیں۔ملاقات میں پاکستان کے سرمایہ کاری کے نظام اور امریکی کمپنیوں کی پاکستان میں مزید شرکت کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کا خواہاں ہے اور باہمی اقتصادی فائدے کے حامل قابلِ عمل منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔نٹالی بیکر کی جانب سے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی ترجیحی سرمایہ کاری کے منصوبوں اور شعبوں سے متعلق استفسار پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کریں، برآمدات میں اضافہ کریں، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائیں اور ملک میں ویلیو ایڈڈ اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کی عدم موجودگی پر بھی گفتگو ہوئی۔ نٹالی بیکر نے بتایا کہ امریکی حکومت تجارت اور ٹیرف سے متعلق انتظامات کے حوالے سے وزارتِ تجارت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ دونوں جانب سے اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور کاروباری سطح پر تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔وفاقی وزیر نے پاکستان امریکہ کاروباری روابط میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہِ راست روابط باہمی تعلقات کو عملی تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی مفاد کے شعبوں میں اقتصادی تعاون اور ایک دوسرے کی معاونت کے لیے مزید مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔قیصر احمد شیخ نے نٹالی بیکر کو اپنے آبائی شہر چنیوٹ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی اور شہر کی مشہور لکڑی کے کام کی صنعت اور تجارتی ورثے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے فاسٹ نیشنل یونیورسٹی کے ساتھ روابط کے فروغ اور تعلیمی، ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے کی تجویز بھی دی۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ جامعات اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری تعاون کے مزید مواقع پیدا کر سکتی ہے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے ملکی خدمت، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سہولت کاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ اقتصادی صلاحیت موجود ہے اور اس صلاحیت کو عملی معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون اور بین الاقوامی کاروباری برادری کے ساتھ مضبوط روابط ضروری ہیں۔ملاقات کے اختتام پر سرمایہ کاری میں سہولت کاری، کاروباری روابط کے فروغ اور پاکستان امریکہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔بورڈ آف انویسٹمنٹ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، ضابطہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور امریکہ سمیت عالمی کاروباری برادری کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی و سرمایہ کاری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔