خضدار میں ناخواندگی کے خلاف تاریخی اقدام، ایک سال میں 190 کمیونٹی اسکول فعال، 10 ہزار بچے زیور تعلیم سے آراستہ

خضدار(ویب ڈیسک) بلوچستان کے ضلع خضدار میں ناخواندگی کے خاتمے اور اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیم کے دھارے میں لانے کے لیے گزشتہ ایک سال کے دوران انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن، چیف سیکریٹری بلوچستان اور سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی کی کاوشوں سے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن (BEF) نے ضلع بھر میں ایک بڑا تعلیمی نیٹ ورک کھڑا کر دیا ہے۔بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مطابق یہ اقدام صوبائی سطح پر ایک حکمت عملی کے تحت شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد ان بچوں کو تعلیم دینا، داخلہ دلانا اور معاونت کرنا ہے جو باقاعدہ تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ یہ منصوبہ صوبہ بھر میں جدید اینگلز پرائیویٹ اور کمیونٹی شراکت داری ماڈل کے ذریعے تعلیمی رسائی کو پھیلانے کے لئے بی ای ایف کے دیرینہ مشن کی عکاسی کرتا ہے۔ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے اس سنہرے موقع کو علاقہ میں تعلیم کے حق میں بہترین انداز میں لاگو کر کے ضلع خضدار کے لیے کل 190 نئے کمیونٹی اسکول منظور کروائے۔ یہ وہ اسکول ہیں جو ضلع کے پسماندہ ترین علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں آج سے پہلے تعلیم کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ ان اسکولوں کے قیام سے براہ راست 10 ہزار کے لگ بھگ بچے اور بچیاں زیور علم سے منور ہو رہی ہیں جس کے مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔اعداد و شمار کے مطابق ضلع خضدار میں BEF کے تحت اس وقت کل اسکولوں کی تعداد 190 ہے۔ جس میں 140 نئے اسکول ہیں جبکہ 50 پرانے اسکول پہلے سے فعال تھے۔ ان اسکولوں میں اس وقت کل داخلہ 9540 ہے جس میں 5760 لڑکے اور 3780 لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ والدین اب اپنی بچیوں کی تعلیم میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ان اسکولوں کو چلانے کے لیے کل 221 اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جن میں 101 مرد اساتذہ اور 120 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔ خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی سطح پر خواتین کو روزگار بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان 221 اساتذہ میں سے 150 اساتذہ کو باقاعدہ پروفیشنل ٹریننگ دی جا چکی ہے جبکہ 71 اساتذہ کی ٹریننگ کا عمل جاری ہے تاکہ تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔سہولیات کے حوالے سے بھی BEF خضدار نے قابل ذکر کام کیا ہے۔ 190 اسکولوں میں سے 160 اسکولوں میں پینے کا صاف پانی مہیا کر دیا گیا ہے جو کہ کل کا 84.2 فیصد بنتا ہے، جبکہ صرف 30 اسکول (15.8 فیصد) ایسے ہیں جہاں پانی کی سہولت پر کام جاری ہے۔تحصیل وار تقسیم کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ اسکول تحصیل خضدار میں 90 قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد تحصیل نال میں 46، تحصیل وڈھ میں 43، تحصیل زہری میں 7 اور تحصیل کرخ میں 4 کمیونٹی اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ یوں دور دراز کے علاقے جیسے مولہ، کرخ اور زہری تک بھی تعلیم کی روشنی پہنچ گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ اور BEF حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف آغاز ہے۔ اگلے مرحلے میں ان اسکولوں میں فرنیچر، واش رومز اور بجلی کی سہولیات کو بھی سو فیصد کیا جائے گا۔ اس اقدام سے خضدار جیسے وسیع و عریض ضلع میں جہاں خواندگی کی شرح انتہائی کم تھی، اب ایک نئے تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *