Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

پنجگور (ویب ڈیسک)جامعہ مکران پنجگور کے ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ مباحثے کے اختتامی مراحل طے شدہ ضوابط کی روشنی میں مکمل ہوئے گزشتہ روز جامعہ مکران پنجگور کے زیرِ اہتمام نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات، ممتاز سیاسی شخصیات اور تعلیمی ماہرین نے شرکت کیا مباحثے کے آغاز میں ہی تمام شرکا کو مباحثے کے بنیادی اصول و ضوابط سے تفصیل سے آگاہ کر دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ گفتگو تمام تر شائستگی اور علمی انداز میں کی جائے گی اور پروگرام کے اختتام پر تمام شرکا کی مشاورت و رائے سے ایک متفقہ قرارداد پیش کی جائے گی جسے باقاعدہ پریس رپورٹ کی صورت میں شائع کیا جائے گا۔ اس تمام طریقہ کار اور اصولوں کو سننے کے بعد مجلس میں موجود کسی بھی فرد نے اس عمل کی مخالفت کی اور نہ ہی کسی قسم کا اعتراض اٹھایا اس کے بعد جب باقاعدہ گفتگو کا آغاز ہوا، تو محترم رکنِ قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت نہیں کی، بلکہ انہوں نے واضح الفاظ میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ “نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو پارلیمنٹ کے ایوان میں لایا جانا چاہیے اور عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ کیسے نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی یا دیگر بنیادوں پر کیا بہتری آ سکتی ہے پروگرام کے اختتامی مرحلے پر جب طے شدہ اصول کے مطابق قرارداد پیش کرنے کا وقت قریب آیا، تو پھلین بلوچ صاحب نے یہ فرما کر رخصت لی کہ انہیں کسی ضروری کام کی وجہ سے فوراً جانا ہے۔ ان کی روانگی کے بعد اصولوں کے عین مطابق اور تمام حاضرین کی موجودگی میں قرارداد پیش کی گئی۔ اس قرارداد کو ایوان میں موجود کسی بھی شخص نے اپوز (مخالفت) نہیں کیا اور تمام شرکا نے متفقہ طور پر اسے منظور کیا جسے بعد میں یونیورسٹی انتظامیہ نے باضابطہ پریس ریلیز کے طور پر شائع کیا جامعہ مکران میں اس قسم کی ڈسکشن منعقد کرنے کا مقصد ہرگز کسی سیاسی عمل کا حصہ بننا نہیں ہے بلکہ یہ ایک علمی، سائنسی اور ادبی کاوش تھی۔ جامعہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے متعدد سنجیدہ مباحثے منعقد کروا چکی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھے گی کیونکہ جامعات کا بنیادی کام ہی طلبہ و طالبات کو حالاتِ حاضرہ، ملکی و بین الاقوامی امور اور سیاسی و سماجی ارتقا سے باخبر رکھنا ہے۔ ان تمام حقائق اور طے شدہ طریقہ کار کے ہوتے ہوئے جامعہ انتظامیہ کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ معزز رکنِ قومی اسمبلی پھلین بلوچ صاحب کو اس قسم کے وضاحت دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی یونیورسٹی آف مکران واضح کرتی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مباحثے اور پینل ڈسکشن محض ایک تقریب نہیں ہوتے، بلکہ یہ طلبا کی فکری و عقلی آبیاری کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ اس قسم کے پروگرام طلبہ میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، استدلال اور گفتگو کا شائستہ انداز پیدا کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کریں جہاں وہ قوم و ملک کے اہم موضوعات پر آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور علمی بنیادوں پر گفتگو سن سکیں اور اپنی رائے قائم کر سکیں دنیا بھر کی معروف