سوات: سیدو میڈیکل کالج سوات میں طبی تحقیق پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار

سوات(ویب ڈیسک)سیدو میڈیکل کالج سوات میں طبی شعبے میں تحقیق کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا، جس میں پاکستان سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طبی ماہرین، پروفیسرز، محققین، ڈاکٹرز اور میڈیکل طلبہ نے شرکت کی۔ سیمینار سے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کنسلٹنٹ اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر خواجہ نظام الدین، پروفیسر ڈاکٹر اسرار الحق، پروفیسر ڈاکٹر نعیم اللہ، اٹلی سے پروفیسر گائیڈو اور ڈاکٹر وجیہ سمیت دیگر ماہرین نے خطاب کیا اور طبی تحقیق کے مختلف پہلوں پر تفصیلی لیکچرز دیے۔ مقررین نے کہا کہ جدید دور میں نئی بیماریوں کی تشخیص، مثر علاج کی دریافت اور صحت عامہ کے مسائل کے حل کے لیے طبی تحقیق بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے میڈیکل کالجز اور جامعات میں تحقیق کا مضبوط کلچر فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ میڈیکل طلبہ کو داخلے کے پہلے سال ہی سے تحقیق کے بنیادی اصول، تحقیقی طریقہ کار، سائنسی لٹریچر کے مطالعے، ڈیٹا جمع کرنے اور تجزیے سمیت ضروری تحقیقی مہارتوں سے روشناس کرایا جائے تاکہ ان میں سائنسی سوچ اور مسائل کا شواہد کی بنیاد پر جائزہ لینے کی صلاحیت پیدا ہوسکے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تحقیق کو صرف پوسٹ گریجویٹ سطح یا سینئر ڈاکٹروں تک محدود رکھنے کے بجائے طبی تعلیم کے ابتدائی مرحلے ہی سے اس کا حصہ بنایا جائے، جبکہ میڈیکل کالجز، جامعات، تدریسی ہسپتالوں اور بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی مزید مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مقامی بیماریوں، صحت عامہ کے مسائل، غذائی قلت، وبائی امراض اور دیگر طبی چیلنجز کے حل کے لیے مقامی سطح پر تحقیق کو فروغ دینا ہوگا اور ایسی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو صحت کے شعبے میں عملی بہتری کا باعث بن سکیں۔ بین الاقوامی ماہرین کی شرکت کو پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان علمی و تحقیقی روابط کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے مقررین نے ایسے پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔ سیمینار کے اختتام پر شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں طبی شعبے کی ترقی کے لیے تحقیق، جدت اور شواہد پر مبنی طبی طریقہ کار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *