بلوچستان کا استحکام سیاسی استحکام کے ساتھ لازم و ملزوم ہے،جمعیت کے صوبائی وزیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام صوبہ بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کا استحکام سیاسی استحکام کے ساتھ لازم و ملزوم ہے اور بلوچستان کے بنیادی مسائل کے پائیدار حل کے بغیر پاکستان کی پائیدار ترقی اور حقیقی استحکام ممکن نہیں؛ بدقسمتی سے بعض تلخ زمینی حقائق سے مسلسل روگردانی ہی مسائل کے پیچیدہ اور سنگین ہونے کی بنیادی وجہ بنی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حقائق کو تسلیم کیا جائے، مسائل کی اصل وجوہات کا تعین کیا جائے اور سنجیدہ سیاسی و انتظامی اقدامات کے ذریعے ان کے مستقل حل کی طرف بڑھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے روزِ اول سے اپنے تمام سیاسی تحفظات اور اختلافات کے باوجود اربابِ اختیار کو بلوچستان کے مسائل کے حل، امن کے قیام اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون اور معاونت کی پیشکش کی ہے، کیونکہ بلوچستان مزید کسی تجربے، بدامنی، محرومی اور انسانی جانوں کے ضیاع کا متحمل نہیں ہوسکتا؛ ہماری اس سرزمین سے والہانہ محبت ہے، ہمارا جینا مرنا اسی مٹی کے ساتھ ہے، ہم نے اسی دھرتی پر رہنا اور اسی میں دفن ہونا ہے، اس لیے بلوچستان میں امن صرف آج کی ضرورت نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیادی ضمانت ہے۔ اگر کسی مسئلے کے پیچھے بیرونی مداخلت یا بیرونی سرپرستی موجود ہے تو اسے بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے، لیکن اس کے ساتھ ہمیں یہ سوال بھی اپنے سامنے رکھنا ہوگا کہ کیا ہم نے بلوچستان اور اہلِ بلوچستان کو حقیقی معنوں میں اپنائیت، مساوی شہری حیثیت، انصاف، تحفظ اور ریاست کے ساتھ وابستگی کا احساس دلایا ہے؟ محض بیرونی عوامل کو ذمہ دار قرار دینے کے بجائے داخلی محرومیوں اور سیاسی و انتظامی کمزوریوں کا بھی ازالہ ضروری ہے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ زیارت کبھی صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا خوبصورت، پْرفضا اور صحت افزا مقام تھا، جہاں ملک بھر سے لوگ اپنے خاندانوں کے ہمراہ قدرتی حسن، سکون اور تفریح کے لیے آتے تھے، مگر آج اسی پرامن اور سیاحتی خطے میں روزانہ لاشیں مل رہی ہیں، اغواء اور قتل کے واقعات نے عوام کو خوف میں مبتلا کردیا ہے اور شہری اپنے گھروں سے نکلنے میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ اگر سرکاری دعوے کے مطابق مسلح گروہوں کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے تو پھر عوام کو یہ جواب بھی ملنا چاہیے کہ آئے روز اغواء، قتل اور دہشت کی وارداتیں کون کر رہا ہے؟ مسلح عناصر ختم ہوچکے ہیں تو پھر قاتل کون ہیں، اغواء کار کون ہیں اور قانون کی گرفت سے باہر کون ہے؟ یہ سوال صرف زیارت کے عوام کا نہیں بلکہ پوری ریاستی مشینری سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی زیارت سے تاریخی وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس خطے کے امن، وقار اور تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دی جانی چاہیے تھی، مگر افسوس کہ آج قائد کی اس سرزمین کو بدترین امن و امان کی صورتحال کا سامنا ہے؛ حکومت کو محض دعووں اور وقتی کارروائیوں کے بجائے نتائج، جوابدہی اور مستقل امن کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ بلوچستان کے عوام مزید وعدے نہیں بلکہ امن، انصاف، تحفظ، عزت اور اپنے مستقبل کی ضمانت چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *