Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) جاری کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سابق ایرانی رہبر علی خامنہ ای کے بیٹے مصطفی اور مسعود خامنہ ای نے دارالحکومت تہران کے امام خمینی مصلی میں اپنے والد کی وفات کے چہلم دن کی تقریبات میں شرکت کی ہے جبکہ مجتبی خامنہ ای جنہیں بعد میں اپنے والد کی جگہ رہبر کے منصب پر فائز کیا گیا تھا اب تک عوامی نظروں سے اوجھل ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق مصطفی اور مسعود کی یہ شرکت اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ان کے بھائی مجتبی اپنے والد کے جنازے اور تدفین کی تقریبات میں بھی نمایاں طور پر غیر حاضر رہے تھے۔ علی خامنہ ای کے دیگر بیٹوں نے جنازے کے مختلف مراحل میں شرکت کی تھی جبکہ مجتبی اپنے والد کی تدفین اور جنازے کے سلسلے میں منعقد ہونے والی کسی بھی عوامی تقریب میں دکھائی نہیں دیے تھے۔عرب ٹی وی کے مطابق علی خامنہ ای کو سنہ 2026 میں نو جولائی کو مشہد شہر میں دفن کیا گیا تھا جس سے پہلے تہران سے قم اور پھر عراق میں نجف اور کربلا سے گزرتے ہوئے مشہد تک جنازے کے کئی مراحل طے کیے گئے تھے۔ نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر مصطفی خامنہ ای نے اپنے والد کی نماز پڑھائی تھی جبکہ مجتبی اس تقریب میں شریک نہیں تھے۔علی خامنہ ای 19 فروری سنہ 2026 کو ایران پر ہونے والے اسرائیلی اور امریکی حملے کے دوران مارے گئے تھے اور ان کی تدفین سے قبل ان کا جسد خاکی چار ماہ سے زائد عرصے تک رکھا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے چند دنوں کے بعد مجتبی خامنہ ای کو نیا رہبر چن لیا گیا تھا لیکن وہ اس حملے کے بعد سے ایک بار بھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔چہلم کی تقریب کے سرکاری اعلان میں مجتبی خامنہ ای کی غیر حاضری کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی گئی ہے۔ نہ ہی اب تک کوئی ایسی تفصیلی سرکاری معلومات موجود ہیں جو ان کے والد کے جنازے اور تدفین میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتا سکیں۔میڈیا رپورٹس میں اس حملے کے بعد سے ان کی مسلسل غیر حاضری کو سکیورٹی وجوہات سے جوڑا جا رہا ہے جبکہ دوسری رپورٹس میں اس شبہے کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ حملے کے دوران زخمی ہو گئے تھے تاہم ان تمام باتوں کی کوئی باضابطہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔مجتبی کے دونوں بھائی ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ موجود ہیں۔