Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
تربت(ویب ڈیسک)عوامی حلقوں نے ایجوکیشن کلسٹر بجٹ کے استعمال میں مبینہ بے ضابطگیوں، ناقص اشیاء کی تقسیم اور جعلی رسیدوں کے ذریعے سرکاری رقوم کے غلط استعمال کے الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ سے فوری طور پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق ضلع کیچ میں اسکولوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور طلبہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختص کلسٹر بجٹ کو مبینہ طور پر منظم طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم کئی سرکاری اسکولوں میں اس بجٹ کے اخراجات اور خریداری کے عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بعض اسکولوں میں پرائمری سطح کے بچوں کے لیے بستے، کپڑے اور دیگر ضروری سامان خریدنے کے نام پر بھاری رقوم خرچ ظاہر کی جاتی ہیں، جبکہ زمینی سطح پر طلبہ کو مبینہ طور پر انتہائی کم معیار کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ مہنگے داموں خریداری ظاہر کرکے کم قیمت اور ناقص اشیاء تقسیم کرنے سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق بعض مقامات پر کلسٹر بجٹ کے اخراجات کو مکمل ظاہر کرنے کے لیے مبینہ طور پر جعلی یا غیر شفاف رسیدوں کا سہارا لیا جاتا ہے، جبکہ خریداری کے عمل، سامان کی اصل قیمت، مقدار اور تقسیم کا مکمل ریکارڈ بھی شفاف انداز میں سامنے نہیں آتا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام تمام کلسٹرز کا ریکارڈ، خریداری کی رسیدیں، واؤچرز اور طلبہ میں تقسیم کیے گئے سامان کی تفصیلات کا خصوصی آڈٹ کرائیں تو اصل صورتحال سامنے آسکتی ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع کیچ کے تمام تعلیمی کلسٹرز کے بجٹ کا گزشتہ چند سالوں کا خصوصی اور غیر جانب دار آڈٹ کرایا جائے، اسکولوں میں ہونے والی خریداری کا مارکیٹ ریٹ سے موازنہ کیا جائے اور سامان کی مقدار و معیار کی بھی موقع پر جا کر جانچ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے لیے مختص سرکاری فنڈز کسی بھی صورت ذاتی مفادات کی نذر نہیں ہونے چاہئیں۔ کلسٹر بجٹ کا بنیادی مقصد اسکولوں کی ضروریات پوری کرنا، تعلیمی ماحول بہتر بنانا اور طلبہ کو سہولیات فراہم کرنا ہے، اس لیے اس رقم کے استعمال میں معمولی سی بھی بدعنوانی بچوں کے تعلیمی مستقبل سے براہِ راست ناانصافی کے مترادف ہے۔عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، محکمہ تعلیم بلوچستان، سیکریٹری تعلیم، ڈائریکٹر اسکولز اور ڈپٹی کمشنر کیچ سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلع کیچ کے تمام اسکولوں کے کلسٹر بجٹ کی جامع تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ جعلی رسیدوں اور غیر معیاری سامان کی شکایات کی جانچ کی جائے اور اگر کسی افسر، اسکول سربراہ یا دیگر ذمہ دار فرد کے خلاف الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں نے کہا کہ اگر کلسٹر بجٹ کے استعمال میں شفافیت یقینی نہ بنائی گئی تو تعلیم کے لیے مختص وسائل کا بڑا حصہ ضائع ہونے کا خدشہ رہے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ سرکاری فنڈز کے استعمال پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔