Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت فاٹا اور پاٹا کے عوام کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے پوری طرح آگاہ اور ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔منگل کو سینٹ اجلاس کے دوران سینیٹر عطا الرحمن کے توجہ دلا نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں سیلز ٹیکس کے حوالے سے گزشتہ سال ایک طویل سیاسی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا جس کا مقصد ٹیکس نظام میں توازن برقرار رکھنا اور ٹیکس استثنیٰ کے غلط استعمال کو روکنا تھا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ رواں سال اسے بڑھا کر 12فیصد کیا گیا ، اس کے باوجود یہ شرح ملک کے دیگر علاقوں میں نافذ 18 فیصد سیلز ٹیکس سے کم اور ترجیحی شرح ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے قبل فاٹا، پاٹا اور خیبر پختونخوا کے نمائندوں، متعلقہ سیاسی رہنماں اور ایف بی آر حکام کے درمیان تفصیلی مشاورت ہوئی تھی، اس عمل کی قیادت اس وقت رانا ثنا ءاللہ نے کی جبکہ امیر مقام اور متعلقہ حکام بھی مشاورت میں شریک تھے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فاٹا کے لیے ٹیکس استثنیٰ کا مقصد علاقے کی مخصوص محرومیوں اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کے عوام اور کاروبار کو سہولت دینا تھا، تاہم اس استثنیٰ کے غلط استعمال کی شکایات بھی سامنے آتی رہیں۔ انہوںنے کہاکہ مختلف کاروباری نمائندوں اور چیمبرز سے بھی یہ شکایات سامنے آئیں کہ فاٹا اور پاٹا کے نام پر ٹیکس استثنیٰ کا غلط فائدہ اٹھایا گیا اور ایسی اشیا اور کاروبار بھی استثنیٰ میں شامل کیے گئے جن کا تعلق ان علاقوں سے نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا اور پاٹا کے عوام کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی کومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ٹیکس سمیت دیگر معاملات پر حکومت رواں سال بھی سیاسی مشاورت کا عمل جاری رکھے گی اور فاٹا و پاٹا کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں گے۔