Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک)محکمہ آبپاشی بلوچستان کے قیمتی سرکاری اثاثوں، گاڑیوں اور بھاری مشینری کو مبینہ طور پر انتہائی کم قیمت پر نیلام کیے جانے کے معاملے پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا، جبکہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران جیو لوجسٹ/ڈپٹی ڈائریکٹر طلحہ بگٹی کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دیگر مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی بلوچستان کی قیمتی سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیوں، اثاثوں کی کم قیمت مقرر کیے جانے اور قومی خزانے کو ممکنہ طور پر کروڑوں روپے کے نقصان کے الزامات سامنے آنے کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے فوجداری کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی اصل مالیت کے مقابلے میں ان کی نیلامی کس بنیاد پر انتہائی کم قیمت پر کی گئی اور اس پورے عمل میں محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کا کیا کردار رہا۔ زرائع کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے دوران جیو لوجسٹ/ڈپٹی ڈائریکٹر طلحہ بگٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد یا مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے اینٹی کرپشن بلوچستان کی ٹیمیں مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق معاملے کی ابتدائی تحقیقات ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن فرید سخی اور ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن شیخ منیر مندوخیل نے کیں۔ تحقیقات کے دوران سرکاری ریکارڈ، نیلامی کے طریقہ کار، اثاثوں کی قیمتوں کے تعین اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آنے کے بعد معاملہ فوجداری کارروائی کے لیے آگے بڑھایا گیا، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش انویسٹی گیشن آفیسر عزیز احمد کے سپرد کر دی گئی ہے۔تحقیقاتی حکام کی جانب سے نیلامی کے پورے عمل کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری گاڑیوں اور بھاری مشینری کی اصل مالیت، تخمینہ، مقررہ قیمت، نیلامی کے اشتہارات، بولی کے عمل، کامیاب بولی دہندگان اور سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی رقم سمیت تمام متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اس امر کا بھی تعین کر رہی ہے کہ نیلامی کے عمل میں شامل افسران اور اہلکاروں نے سرکاری قواعد و ضوابط اور اپنے قانونی فرائض کی کس حد تک پابندی کی۔تحقیقات میں سب سے اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ اگر سرکاری اثاثوں کی نیلامی واقعی ان کی اصل مالیت سے غیر معمولی طور پر کم قیمت پر کی گئی تو اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا نیلامی کے عمل میں کسی فرد یا گروہ کو مبینہ طور پر مالی فائدہ پہنچایا گیا اور اگر ایسا ہوا تو اس میں کون کون سے افسران یا اہلکار ملوث تھے۔اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق تحقیقات کسی ایک شخص تک محدود نہیں بلکہ محکمہ آبپاشی بلوچستان میں مذکورہ نیلامی کے پورے عمل اور اس سے وابستہ تمام افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔