افغانستان میں امن پاکستان کے امن سے جڑا ہے، طالبان ٹی ٹی پی کی سرپرستی اور سہولت کاری ختم کریں، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کو پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں، لیکن اس عرصے میں افغانستان میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے بھی سنگین چیلنجز برقرار ہیں۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی اور ٹی ٹی پی کو ملنے والی پناہ اور مبینہ سہولت کاری نے دونوں ممالک کے عوام کو نقصان پہنچایا ہے اور پاک افغان تعلقات کیلئے ایک سنگین مسئلہ پیدا کردیا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے ہمسایہ اور برادر اسلامی ممالک ہیں، اس لیے دونوں ممالک کا امن اور استحکام ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ افغانستان میں بدامنی کا اثر پاکستان پر اور پاکستان میں دہشت گردی کا اثر پورے خطے پر پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے سکیورٹی تحفظات کو سنجیدگی سے سمجھیں اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کیلئے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی دہشت گرد کارروائیوں میں پاکستانی شہریوں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے محفوظ پناہ گاہیں، سہولت کاری یا معاونت دستیاب رہتی ہے تو اس کا نقصان صرف پاکستان کو نہیں بلکہ خود افغانستان اور پورے خطے کو بھی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بارہا افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کیلئے محض بیانات کافی نہیں بلکہ ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر، عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان آج بھی سیاسی، معاشی اور انسانی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ افغان عوام کو تعلیم، روزگار، بنیادی حقوق، سیاسی شمولیت اور محفوظ زندگی کی ضرورت ہے۔ تاہم افغانستان کے مسائل کا حل کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کو برداشت کرنے میں نہیں بلکہ افغانستان کو ایک پرامن، مستحکم اور ذمہ دار ریاست بنانے میں ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ افغان طالبان کی حکومت کو اپنے ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے ساتھ متوازن، باعزت اور تعمیری تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے کیونکہ ایک پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، لیکن پاکستان اپنی سرزمین اور اپنے شہریوں کے خلاف دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اگر افغانستان میں موجود عناصر پاکستان میں دہشت گردی کرتے رہیں گے تو اس کا ردعمل دونوں ممالک کے تعلقات اور افغان عوام کی مشکلات میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ افغان طالبان کے پانچ سالہ اقتدار کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب افغانستان اپنے ہمسایوں کیلئے امن و استحکام کا ذریعہ بنے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے والی سرزمین۔انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کے عوام امن چاہتے ہیں، اور دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کی سرپرستی، پناہ اور سہولت کاری کے الزامات کا خاتمہ کرتے ہوئے ایسے عملی اقدامات کرنا ہوں گے جن سے پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور ہوں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال ہو۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ امن، استحکام، باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات چاہتا ہے۔ افغانستان میں پائیدار امن اور پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے افغان طالبان کا کردار فیصلہ کن ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اس حوالے سے واضح اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *