نوشکی کے علاقے کلی مینگل آباد میں ماں بیٹی کا قتل قابل مذمت ہے، دہشت گردوں نے گھر میں گھس کر خواتین کو نشانہ بنا کر انسانیت سوز اقدام کیا،

 کوئٹہ(ویب ڈیسک)بلوچستان کی خواتین پارلیمنٹرینز نے نوشکی کے علاقے کلی مینگل آباد میں ماں بیٹی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے گھر میں گھس کر خواتین کو نشانہ بنا کر انسانیت سوز اقدام کیا ایسے عناصر بلوچ قوم اور بلوچستان کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صوبائی صدر و ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ،مشیر کھیل مینا مجید،صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی،ہادیہ نواز نے اتوار کو سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ مشیر کھیل بلوچستان مینا مجید نے کہا کہ گزشتہ روز نوشکی کے کلی مینگل آباد میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ماں بیٹی کو قتل کیا، جس پر نوشکی سمیت پورا بلوچستان سوگوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی حنیفہ سرکاری ملازمہ تھیں جبکہ یہ خاندان سیلاب سے متاثر ہوا تھا اور پاک فوج کے تعاون سے ان کا گھر بحال ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ ماں بیٹی کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ پرامن شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہی تھیں۔ گھروں میں گھس کر بلوچ خواتین کو قتل کرنا کون سی بلوچیت اور غیرت ہے، دہشت گرد بلوچ قوم کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔مینا مجید نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد صرف سیکیورٹی فورسز ہی نہیں بلکہ بے گناہ شہریوں، خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں، بلوچستان میں امن دشمن عناصر کو شکست دیں گے اور صوبے کے امن و امان کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عوام کو دہشت گردوں کی شناخت اور ان کے خلاف کردار ادا کرنا ہوگا۔ انسانی حقوق کی چیمپئن بننے والی تنظیموں کی جانب سے اس واقعے پر خاموشی افسوسناک ہے، ہم مظلوموں کے لیے ہر جگہ آواز اٹھائیں گے۔مینا مجید نے مزید کہا کہ بی بی حنیفہ اور حفصہ کا قتل صوبے کے تمام امن پسند اور ترقی پسند لوگوں کا قتل ہے، دہشت گردوں کا یہ مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آ چکا ہے اور سب کو مل کر دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔وزیر تعلیم بلوچستان راحیلہ حمید درانی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گھر میں بیٹھی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں اس قدر تشدد ناقابل فہم ہے۔انہوں نے کہا کہ بی بی حنیفہ اور بی بی حفصہ کے قتل پر افسوس ہے، اس واقعے پر کہیں سے مذمتی بیان نہ آنا بھی تشویشناک ہے۔ مذہب اور بین الاقوامی قوانین میں بھی خواتین کو جنگوں کے دوران استثنیٰ حاصل ہے۔ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گونے کہا کہ پارلیمنٹرین غزالہ گولہ نے بی بی حفصہ اور بی بی حنیفہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور اس پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ خواتین کے قتل میں ملوث افراد کو ضرور سزا ملے گی، بطور پارلیمنٹرین ہم ہمیشہ خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *