Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
تربت (ویب ڈیسک)بلوچستان بار کے وائس چیئرمین جاڑین دشتی ایڈووکیٹ، مجید شاہ ایڈووکیٹ، خلیل ایڈووکیٹ، نیاز ایڈووکیٹ، رستم گچکی ایڈووکیٹ و دیگر نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیچ اور مکران میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور پولیس کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔وکلا رہنماؤں نے کہا کہ مکران کے وکلا اس پریس کانفرنس کے ذریعے تمام سیاسی و سماجی تنظیموں، تاجر برادری اور عوام کو بھی مخاطب کر رہے ہیں، کیونکہ کیچ اور مکران میں امن و امان کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق لیویز کو پولیس میں ضم کیے جانے کے بعد پولیس کا رویہ عام شہریوں، تاجروں، سفید پوش افراد اور وکلا کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ ہو گیا ہے۔انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایک معزز وکیل کے بیٹے سے موٹرسائیکل، نقدی اور موبائل فون لوٹے گئے۔ وکلا کے مطابق انہوں نے مبینہ ملزم کو ٹریس کرکے اس کا نام، پتہ اور لوکیشن جوسک تھانے کے ایس ایچ او کے حوالے کی، تاہم ان کا الزام ہے کہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے بجائے مبینہ طور پر مسروقہ سامان کی برآمدگی اور فروخت کے معاملے میں غفلت برتی۔ وکلا نے دعویٰ کیا کہ موٹرسائیکل، موبائل فون اور رقم کے حوالے سے بھی انہیں مبینہ طور پر تعاون نہیں ملا اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے رابطہ کرنے پر بھی مسئلہ پیش آیا۔وکلا رہنماؤں نے کہا کہ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ ان کے بقول تربت اور کیچ کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو ایف آئی آر کے اندراج اور پولیس سے رجوع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض غریب اور نادار افراد کے مقدمات شناختی کارڈ نہ ہونے کو جواز بنا کر درج نہیں کیے جاتے، جبکہ نابالغ ملزمان یا متاثرین کے معاملات میں بھی مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کا اندراج پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے اور کسی شہری کو انصاف کے حصول سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایف آئی آر درج نہ ہونے سے جرائم کی تفتیش متاثر ہوتی ہے اور متاثرین کو انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔پریس کانفرنس میں وکلا نے کیچ میں مبینہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں متعدد چیک پوسٹیں قائم ہونے کے باوجود اگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو رہی تو اس کی ذمہ داری متعلقہ پولیس حکام پر عائد ہوتی ہے۔وکلا رہنماؤں نے پولیس کے تفتیشی نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض مقدمات میں تفتیش درست طریقے سے نہیں کی جاتی اور گواہوں کے نام پر مبینہ طور پر رقم طلب کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کرنا چاہیے، نہ کہ شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنی چاہئیں۔انہوں نے مکران رینج کے متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈی پی او کیچ کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے، ایس ایچ او جوسک کے خلاف بھی انکوائری اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ ضلع کیچ کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لے کر انہیں جوابدہ بنایا جائے۔وکلا رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کو طلب کرکے تھانوں میں ایف آئی آر کے اندراج، شہریوں کی شکایات، تفتیشی نظام اور امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے جواب طلبی کی جائے تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو سکے۔پریس کانفرنس میں وکلا نے ایک حالیہ واقعے کے تناظر میں پیر کے روز ضلع کیچ کی تمام عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور پولیس اہلکاروں کے عدالتوں میں داخلے پر بھی احتجاجاً پابندی کا مطالبہ کریں گے۔وکلا نے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او جوسک کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے، ایس ایس پی کیچ کا تبادلہ کرکے ان کی جگہ ایماندار، قابل اور عوام دوست افسران تعینات کیے جائیں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر احتجاج