سرسید یونیورسٹی میں یومِ آزادی جوش و جذبے سے منایا گیا، ملازمین کے پے اسکیل پر نظرثانی کا اعلان

کراچی(ویب ڈیسک) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام پاکستان کا 79واں یومِ آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا، تقریب میں بانیانِ پاکستان اور تحریکِ آزادی کے رہنماو ¿ں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جبکہ قومی پرچم بھی لہرایا گیا۔تقریب میں سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افضل حق، کموڈور (ر) سید سرفراز علی ستارہ امتیاز (ملٹری)، پروفیسر ڈاکٹر جعفر نذیر عثمانی، طارق سبزواری، ڈاکٹر کاشف شیخ، ڈاکٹر عبدالمعید خان، ڈاکٹر فہد فاروقی، محسن خان، روسائے کلیات، سربراہانِ شعبہ جات، اساتذہ، ملازمین، طلبہ اور علیگیرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے صدر اور سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمد اکبر علی خان نے تحریکِ آزادی میں سرسید احمد خان کے تاریخی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خان کا دو قومی نظریہ قیامِ پاکستان کی نظریاتی بنیاد بنا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ملک کو بانیانِ پاکستان کے خوابوں کی عملی تعبیر بنائیں اور عالمی سطح پر ایک عظیم قوم کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کریں۔اس موقع پر چانسلر محمد اکبر علی خان نے سرسید یونیورسٹی کے گریڈ ایک سے گریڈ چھ تک کے ملازمین کے پے اسکیل پر نظرثانی کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ 11 سال سے زیرِ التوا تھا، پے اسکیل پر نظرثانی سے ملازمین کو مالی طور پر خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، خالی دعوے کرنا نہیں بلکہ مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افضل حق نے کہا کہ جامعات کا مقصد صرف ڈگری یافتہ گریجویٹس تیار کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ علیگڑھ اسپرٹ کے تحت جدید تعلیم، شخصیت سازی، خود انحصاری اور قومی ترقی کو فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے قابل پیشہ ور افراد، منفرد سوچ رکھنے والے مفکرین، تاجر، ذمہ دار شہری اور مستقبل کے رہنما تیار کیے جائیں جو پاکستان کی ترقی میں مو ¿ثر کردار ادا کرنے کے ساتھ دنیا کا مقابلہ پورے اعتماد سے کرسکیں۔رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی ستارہ امتیاز (ملٹری) نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ جشنِ آزادی ہماری عظیم وراثت اور اتحاد کی علامت ہے۔ پاکستان محض ایک خطہ یا سرزمین نہیں بلکہ ایک نظریے اور جذبے کا نام ہے، اس کے روشن مستقبل کے لیے ان مقاصد اور تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا جن کے تحت پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔تقریب کے اختتام پر حافظ ارسلان سعید نے امتِ مسلمہ اور سرسید یونیورسٹی کی ترقی، خوشحالی اور پاکستان کی سلامتی و استحکام کے لیے خصوصی دعا کرائی۔بعد ازاں چانسلر محمد اکبر علی خان کی قیادت میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن اور سرسید یونیورسٹی کے وفد نے مزارِ قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ چانسلر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کی قومی خدمات اور عظیم میراث کو خراجِ تحسین پیش کیا۔وفد نے محترمہ فاطمہ جناح، قائدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان، بیگم رعنا لیاقت علی خان، سابق وزیراعظم نورالامین اور سردار عبدالرب نشتر کی قبروں پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *