ہمیں اس ملک سے نہیں اس ظالم نظام اوراس پرزبردستی مسلط لٹیروں سے نفرت ہے،جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

کوئٹہ(ویب ڈیسک) امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ ہمیں اس ملک سے نہیں اس ظالم نظام اوراس پرزبردستی مسلط لٹیروں سے نفرت ہے۔سب کیلئے انصاف،وسائل کی منصفانہ تقسیم حقوق کی فراہمی سے آزادی کے ثمرات مل سکتے ہیں اورنفرتوں تعصبات کاخاتمہ ممکن ہے۔فوجی قلعوں،سرکاری دفاتروسخت سیکورٹی حصار میں جشن آزادی منانے والے قوم کے خیرخواہ نہیں۔ہم سب پاکستان سے محبت کرتے ہیں مگر ناانصافی،ظلم اور کرپشن کے خلاف پْرامن آواز بلند کرنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔آئیں عہد کریں کہ تعلیم، خدمت اور دیانت کو فروغ دیں گے اور ایک بہتر اسلامی پاکستان خوشحال بلوچستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گوادر میں وفودسے ملاقات کرتے ہوئے کیا قبل ازیں انہوں نے گوادرفشریزآفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ٹرالر مافیا کسی دہشت گرد گروہ سے کم نہیں جو سالانہ تقریباً 200ارب روپے کی مچھلی غیر قانونی طور پر شکار کرکے بلوچستان کے سمندری وسائل کو لوٹ رہا ہے اگر دو روز کے اندر گوادر کے سمندر کو غیر قانونی ٹرالروں سے صاف نہ کیا گیا تو فشریز آفس کے سامنے احتجاج اور دھرنا دیا جائے گا۔ گوادر فشریز آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمٰن نے مزیدکہا کہ فشریز کی رپورٹ کے مطابق ٹرالر مافیا سالانہ200ارب روپے کی مچھلی چوری کرتا ہے، جبکہ بلوچستان کاسالانہ بجٹ بھی تقریباً200ارب روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں نہ بڑی صنعتیں ہیں اور نہ فیکٹریاں، جبکہ بارڈر بھی بند ہے، اس لیے ماہی گیری ہی مقامی لوگوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے، لیکن ٹرالر مافیا سمندر کو بھی تاراج کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے ماہی گیر آج بھی شکایات کر رہے ہیں کہ سندھ سے آنے والے ٹرالر جیونی، گنز اور دیگر علاقوں میں غیر قانونی شکار کرکے سمندری حیات کو تباہ کر رہے ہیں۔ شکار کا سیزن شروع ہوچکا ہے، مگر غیر قانونی ٹرالروں کو روکنے اور پکڑنے کے لیے مؤثر کارروائی نظر نہیں آ رہی۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے فشریز حکام پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فشریز کے افسران ٹرالر مافیا کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ غیر قانونی ٹرالنگ سے سمندری حیات کی نسل کشی ہو رہی ہے اور بلوچستان کے ماہی گیروں کے معاشی مستقبل کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں پہلی بار ٹرالر مافیا کے خلاف قرارداد پیش کی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی اس معاملے پر بات کی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے مختلف فورمز اور اجلاسوں میں ٹرالر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات دیں اور وفاقی اداروں کو بھی صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کی ہدایت کی، تاہم اس کے باوجود غیر قانونی ٹرالنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ ٹرالر مافیا کے معاملے پر صوبائی حکومت بھی بے بس دکھائی دیتی ہے اور وفاقی حکومت بھی، لیکن وہ کسی صورت گوادر کے ماہی گیروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے دوٹوک اعلان کیا کہ اگر دو دن کے اندر گوادر کے سمندر کو ٹرالر مافیا سے صاف نہ کیا گیا توفشریزآفس کے سامنے احتجاج اور دھرنادیاجائے گا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ 28اگست کو بلوچستان اسمبلی کے اندر بھی ٹرالر مافیا کے خلاف احتجاج کریں گے۔ ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ میرے ماہی گیر تڑپ رہے ہیں،مر رہے ہیں، لیکن میں کسی صورت ٹرالر مافیا کو بلوچستان کے ساحل اور سمندر کو لوٹنے نہیں دوں گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف فوری، بلاامتیاز اور عملی کارروائی کی جائے، سمندری حدود کی نگرانی مؤثر بنائی جائے اور مقامی ماہی گیروں کے روزگار سمیت سمندری وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *