پاکستان، چین مشترکہ کمپنی کو گوادر میں گدھا پلانٹ کے لیے 4 ایکڑ اراضی الاٹ گوادر میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ گدھے ذبح کرنے کی صلاحیت کا پلانٹ قائم ہوگا

گوادر(این این آئی)گوادر میں پاک چین لائیو اسٹاک ویلیو چین کی ترقی کے منصوبے کو فروغ دینے کی جانب اہم پیش رفت کے طور پر پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے مشترکہ منصوبے شہزاد اینڈ شا (پرائیویٹ)کو گدھوں کا مذبح خانہ اور پروسیسنگ فیکٹری قائم کرنے کے لیے گوادر نارتھ فری زون میں چار ایکڑ اراضی باضابطہ طور پر الاٹ کر دی گئی۔گوادر پرو کے مطابق کمپنی کا مقصد گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنا ہے۔ فیکٹری کی تعمیر شروع کرنے کے لیے مقررہ قوانین و ضوابط کے مطابق ابتدائی مٹی کی جانچ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ حکومتی ہدایات کے تحت کمپنی نے سالانہ 150,000 گدھے ذبح کرنے کا کوٹہ بھی حاصل کر لیا ہے۔گوادر پرو کے مطابق گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے)کے ایک عہدیدار نے گوادر پرو کو بتایا کہ کمپنی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، محکمہ حیوانات قرنطینہ اور چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) سے تمام ضروری لائسنس اور این او سیز حاصل کر لیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں مقامی گدھا پال کسانوں کے تعاون سے گدھوں کے فارمز قائم کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔گوادر پرو کے مطابق یہ پیش رفت گزشتہ ماہ گوادر نارتھ فری زون سے ہانگینگ کمپنی کی جانب سے چین بھیجی جانے والی دو کھیپوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ہانگینگ نے پاکستان اور چین کی جانب سے عائد تمام معائنوں، معیار، سرٹیفکیشن اور ضوابط پورے کرنے کے بعد195,425 ڈالر مالیت کا گدھے کا گوشت اور کھالیں دو کھیپوں کے ذریعے چین برآمد کیں۔ہانگینگ کے ایک عہدیدار نے گوادر پرو کو بتایا کہ یہ دونوں برآمدی سرگرمیاں حکومت پاکستان کی جانب سے چین کو گدھے کی کھالیں برآمد کرنے پر عائد پابندی باضابطہ طور پر ختم کیے جانے کے بعد ممکن ہوئیں۔ گدھے کا تمام گوشت منجمد حالت میں بحری جہاز کے ذریعے چین بھیجا گیا۔پاکستان میں چین کی قیادت میں گدھے کے گوشت اور کھالوں کے لیے جدید ترین مذبح خانے کی تعمیر گزشتہ سال5 کروڑ ڈالرکی لاگت سے مکمل کی گئی تھی۔گوادر پرو کے مطابق چین میں گدھے کے گوشت اور کھالوں کی نمایاں طلب موجود ہے، بالخصوص گدھے کی کھال ایجیاو (Ejiao) کی تیاری میں اہم خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے، جو روایتی چینی طب کی ایک معروف مصنوعات میں شامل ہے۔پاکستان دنیا میں گدھے پالنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، جہاں گدھوں کی تعداد تقریبا 58 لاکھ ہے۔جی پی اے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گوادر نارتھ فری زون میں گدھے کے مذبح خانے کی تعمیر اور کمپنیوں کی سرگرمیوں کے آغاز سے پیدا ہونے والے مواقع کے بعد کئی دیگر کمپنیوں نے بھی اراضی کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان کمپنیوں میں ایم ایل جی فارمز، سانگ یانگ گلوبل لمیٹڈ، فوشان برادرز اینڈ سسٹرز ٹریڈنگ کمپنی شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *