’بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر‘ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی

عمان (انٹرنیشنل ڈیسک)عمان کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر تبادلۂ خیال کے لیے جو اجلاس پیر کو عمان میں ہونا تھا، اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک خلیجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیجی عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان پیر کو عمان میں ہونے والا اجلاس، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایک ممکنہ انتظام پر بات ہونی تھی، مذاکرات کی شرائط پر اختلافات کے باعث ملتوی کیا گیا ہے۔
یہ اجلاس عمان اور ایران کی اس کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد اس اہم آبی گزر گاہ کے ذریعے جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عارضی فریم ورک کو یقینی بنانا تھا، جو عالمی تیل برآمدات کی ایک اہم شاہراہ ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ پیر کو صلالہ میں ہونے والا علاقائی اجلاس ’مشترکہ مفاد میں‘ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ عمان نے ایکس پر اپنے پیغام کے ساتھ بحرین، ایران، عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پرچموں کی تصویر بھی شیئر کی۔
انھوں نے ایکس پر لکھا: ’ہم ایسے مکالمے کے فروغ کے لیے پُر عزم ہیں جو ہمارے خطے میں استحکام اور دیر پا تعاون کی حمایت کرے۔‘
تاہم انھوں نے تاخیر کی وجوہات کی مزید وضاحت نہیں کی۔
ایرانی حکام نے کہا تھا کہ وہ خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کریں گے تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے نظم و نسق سے متعلق عمان کے ساتھ ایک معاہدہ پیش کر سکیں۔
روئٹرز کے مطابق ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ عمان میں ہونے والا اجلاس بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا۔ یہ فیصلہ تہران اور مسقط نے مشترکہ طور پر کیا۔ عہدیدار نے کہا کہ اجلاس کے انعقاد کے لیے موزوں تاریخ کے تعین میں ایران عمان کے ساتھ رابطہ کرے گا۔
یہ التوا سعودی عرب کے اس فیصلے کے فوراً بعد سامنے آیا جس کے تحت اس نے، کم از کم فی الحال، اپنی اس پائپ لائن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ رہی ہے۔
دوسری جانب، آبنائے ہرمز تیل بردار جہازوں کے لیے بدستور خطرات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ برطانیہ کی بحری سلامتی کی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے اتوار کو کہا کہ ایک بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک میزائل کی زد میں آ گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور عملے کو وہاں سے نکالنا پڑا۔
ادھر ایران نے کہا کہ اس کے ساحل کے قریب ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور عملے کے چار ارکان زخمی ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *